62

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ سے خطاب میں وفاقی حکومت پر تنقید، گڈ گورننس پر زور

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ایف سی کے تحت وعدہ شدہ فنڈز مالی سال 2025-26 میں تاحال ریلیز نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود قبائلی اضلاع کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ وفاقی اور پنجاب حکومت عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مسلسل غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک کر رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے منگل کے روز واٹر کینن میں زہریلے کیمیکل کے استعمال سے کارکنان اور قیادت کی طبیعت خراب ہونے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ پرامن سیاسی کارکنان اور پارلیمنٹیرینز پر تشدد جمہوری روایات کے منافی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ وفاق اور پنجاب حکومت کو سیاسی انتقام کے بجائے ملکی معیشت پر توجہ دینی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے معاشی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ، زرعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے اشارے دن بہ دن نیچے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کابینہ کو ہدایت کی کہ وزراء ہر 15 دنوں میں اپنے تفویض کردہ اضلاع کے فیلڈ وزٹس یقینی بنائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور موثر چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ پر آئندہ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ لی جائے گی، جس میں چیف سیکرٹری سے پیش رفت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ حکومت کی موجودہ پوزیشن اور آگے کا لائحہ عمل واضح ہو سکے۔