109

چین میں قیمتی درخت اور مہنگی اشیاء ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل، سرمایہ کاری کے نئے رجحانات

چین میں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات سامنے آئے ہیں، جہاں قیمتی درخت، مہنگی چائے اور دیگر اشیاء کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ روایتی صنعتوں کو سرمایہ فراہم کیا جا سکے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے گرم جزیرے ہائنان میں نایاب ہوانگ ہوا لی درختوں کی تصاویر لے کر انہیں ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہوانگ ہوا لی، جسے ’پیلا پھول دینے والا ناشپاتی درخت‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک قیمتی لکڑی ہے جو اپنی سنہری چمک اور خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے۔ تاہم یہ درخت تیار ہونے میں کئی دہائیاں لیتا ہے، جس کے باعث کسان مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

جیلی ٹیکنالوجی گروپ کے نمائندے ژاؤ شاؤباؤ کے مطابق اس اقدام سے قیمتی لکڑی جیسے غیر استعمال شدہ وسائل کو تجارتی اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے جنگلاتی صنعت میں بڑی تبدیلی ممکن ہے۔ کمپنی نے منصوبہ بنایا ہے کہ ہانگ کانگ میں چند ماہ کے اندر ڈیجیٹل ٹوکنز کا پہلا مرحلہ متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے تقریباً 10 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر جمع کیے جائیں گے۔ ہر درخت کی مالیت اس کے سائز اور معیار کے مطابق طے کی جائے گی اور پھر اسے مختلف ڈیجیٹل حصص میں تقسیم کیا جائے گا۔

یہ رجحان صرف قیمتی درختوں تک محدود نہیں ہے۔ چین میں اعلیٰ درجے کی چائے، مہنگی بائی جیو شراب اور دیگر اشیاء کو بھی ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہر لیاؤ رین لیانگ کے مطابق نوادرات، کلیکشن، ڈیٹا، کموڈیٹیز اور جائیداد جیسے کئی اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے میں کمپنیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

اگرچہ ہانگ کانگ میں یہ سرمایہ کاری ماڈل پذیرائی پا رہا ہے، ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خریداروں کی تعداد محدود ہو سکتی ہے، خاص طور پر چین میں سرمایہ کاری پر پابندیوں کی وجہ سے۔ ہانگ کانگ اس نئے شعبے کے ذریعے خود کو ایشیا کے بڑے مالیاتی مرکز کے طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ بیجنگ میں ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کی تجارت پر پابندی برقرار ہے۔

شنگھائی کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی نے اعلیٰ درجے کی پوئر چائے کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا ہے، جس کی قدر وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق بلاک چین ٹیکنالوجی جعلسازی کے مسائل کو روکتی ہے۔ 27 سالہ صارف جونو ژو نے ڈیجیٹل چائے کے 100 یونٹس خریدے ہیں اور کہا کہ یہ اثاثے حقیقی قدر پر مبنی ہیں۔

اسی طرح ایک چینی کمپنی نے اپنی بائی جیو شراب کے 62 ٹن ذخائر کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا ہے، جس کے ذریعے تقریباً 50 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔