56

پاکستان میں بجلی کے بڑے بحران کا خدشہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے بجلی کے شعبے میں مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے کے لیے بجلی کی سبسڈی میں 143 ارب روپے کی کمی اور گردشی قرضے کے بہاؤ کو 400 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اس اقدام سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بل وصولی بہتر ہوگی، لائن لاسز کم ہوں گے اور نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ ہوگا۔

وفاقی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے رواں مالی سال کے لیے گردشی قرضے کا ہدف 522 ارب روپے مقرر کیا، جس میں سے 400 ارب روپے بجٹ کے ذریعے ایڈجسٹ کیے جائیں گے اور باقی 122 ارب روپے ری فنانسنگ اسکیم کے تحت پورے کیے جائیں گے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس سے گردشی قرضے کا مجموعی حجم متاثر نہیں ہوگا۔

ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل درآمد پاکستان کی توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے، مالیاتی خسارے کم کرنے اور صارفین پر بوجھ کو مستحکم انداز میں منتقل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکام نے کہا کہ جنوری 2026 سے بجلی کے ٹیرف کی ری بیسنگ سالانہ بنیاد پر کی جائے گی تاکہ عوام پر بوجھ بتدریج اور متوازن انداز میں ڈالا جا سکے۔

یہ قدم پاکستان کے بجلی شعبے میں مالی استحکام اور صنعتی و اقتصادی ترقی کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔