28

امریکی قومی سلامتی حکام کا افغان پناہ گزینوں پر خدشات کا اظہار، دہشت گرد تعلقات کے شبہات

امریکی قومی سلامتی حکام نے افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض افغان شہری مختلف دہشت گرد تنظیموں سے روابط رکھتے ہیں اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے مطابق کم از کم دو ہزار افغان شہری ایسے ہیں جن پر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق یا مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف دہشت گرد گروہ اب بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔

تلسی گبارڈ نے کہا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے انکشاف کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکا آنے والے تقریباً 18 ہزار افغان شہریوں میں سے بعض کو بدنام زمانہ یا مشتبہ دہشت گرد قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ افراد مختلف دہشت گرد گروہوں سے روابط رکھتے تھے اور امریکا میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

فوکس نیوز سمیت امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر نے افغان مہاجرین کو امریکا کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز عالمی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ان خدشات کے پیش نظر بعض ممالک نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے افغان باشندوں کے داخلے پر پابندیاں یا سخت شرائط عائد کر دی ہیں، تاہم انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ تمام پناہ گزینوں کو یکساں طور پر خطرہ قرار دینا درست نہیں اور ہر کیس کی الگ جانچ ضروری ہے۔