34

خیبر پختونخوا میں تقرری و تبادلوں کے نظام پر سوالیہ نشان، او ایس ڈی تعیناتیوں اور میرٹ کے تضادات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے صوبے میں اچھی حکمرانی اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کے دعووں کے باوجود عملی طور پر انتظامی نظام میں سنگین تضادات سامنے آ گئے ہیں۔ حالیہ پوسٹنگ اور ٹرانسفرز نے بیوروکریسی میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور صوبائی سطح پر تقرری و تبادلوں کے عمل کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متعدد سینئر افسران کو بطور او ایس ڈی تعینات کیا گیا ہے جبکہ نسبتاً جونیئر افسران کو اہم اور اعلیٰ عہدوں پر تقرر کیا گیا ہے، جس سے میرٹ، گورننس اور ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ’جنگ‘ کو بتایا کہ تمام تقرریاں اور تبادلے سختی سے میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں، جو طے شدہ قواعد و ضوابط اور کارکردگی کے معیار کے مطابق ہیں، اور اس پورے عمل میں نہ کسی سیاسی دباؤ کو شامل کیا گیا اور نہ ہی ذاتی پسند یا ناپسند کو مدنظر رکھا گیا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق محمود الحسن (PPS-21)، ارشد خان (PCS-21)، ذکاء اللہ خٹک (PCS-21)، عامر آفاق (PMS-20)، محمد علی شاہ (PCS-20)، یوسف رحیم (BPS-20)، ثاقب رضا (BPS-20)، محمد طاہر اورکزئی (BPS-20) اور عنایت اللہ مہمند (BPS-20) کو متعدد خالی انتظامی اسامیوں کے باوجود او ایس ڈی کے طور پر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ کئی BPS-19 افسران کو ایسے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے جو روایتی طور پر BPS-20 یا BPS-21 افسران کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔

ان میں عابد وزیر (BPS-19) کو سیکریٹری صنعت، تجارت و ٹیکنیکل ایجوکیشن، اور ظفر الاسلام (BPS-19) کو سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، الیکشنز و دیہی ترقی مقرر کرنا شامل ہے۔ دیگر نمایاں تعیناتیاں خالد (BPS-19) کو کمشنر بنوں اور کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال (BPS-19) کو سیکریٹری لیبر کے طور پر کی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی تقرری و تبادلوں کی پالیسی سے بیوروکریسی میں عدم اطمینان بڑھتا ہے اور میرٹ کے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔