45

کابل میں افغان علما کا اجلاس: عسکریت پسندی کے لیے سرحد عبور نہ کرنے پر زور، پاکستان کی دیرینہ درخواست کی توثیق

افغانستان سے پاکستان میں جاری دراندازی روکنے کے سلسلے میں کابل میں مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے۔ کابل میں افغان علما اور مذہبی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں عسکریت پسندی کے لیے سرحد عبور نہ کرنے پر زور دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایک ہزار افغان مذہبی رہنما اور عمائدین نے شرکت کی اور اختتام پر ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ علما نے اسلامی امارت سے مطالبہ کیا کہ رہبر کے حکم کی روشنی میں کسی کو بھی بیرون ملک عسکری سرگرمیوں کے لیے جانے کی اجازت نہ دی جائے اور افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں اسلامی امارت کو کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔

پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اجلاس کے بعد کہا کہ افغان علما اور عمائدین کے بیان سے پاکستان کے دیرینہ مطالبے کی توثیق ہوئی ہے، اور اگر سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان کو بھی جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں مذاکرات کے تین ادوار ہو چکے ہیں، لیکن افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں پاکستان نے افغان طالبان سے تحریری ضمانت طلب کی تھی کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، تاہم افغان طالبان اس میں ناکام رہے۔