98

ایبٹ آباد میں لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق قتل کیس میں اہم انکشافات

ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغواء و قتل کیس میں تہلکہ خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کو گلا دباکر قتل کیا گیا، جس کے باعث ان کی گردن کی ہڈی تک ٹوٹ گئی۔ جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی پائے گئے، جو واضح کرتے ہیں کہ انہیں بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون الرشید نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مقتولہ نے اپنی قریبی سہیلی ردا کے پاس 67 تولے سونا امانت رکھا تھا، جس کی واپسی کے مطالبے پر ردا اور اُس کے شوہر نے انہیں اغواء کے روز ہی قتل کر دیا۔ پولیس نے مرکزی ملزمہ سمیت بلے دی ہٹی کے مالک وحید کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جبکہ کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔ عدالت نے دونوں ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

پولیس کی جانب سے واقعے میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او کینٹ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹرز کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا، تاہم ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر سے مذاکرات کے بعد ایمرجنسی سروسز بحال کر دی گئیں۔ ڈاکٹرز نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کی تیزی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کو سخت سزا دلوانے کے لیے ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔