118

اقتصادی تعاون: امریکہ کا پاکستان کے لیے 1 ارب 25 کروڑ ڈالر کا نیا مالی پیکج، ریکوڈک منصوبے میں تیزی کی راہ ہموار

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے مطابق امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) نے پاکستان کے لیے ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کی نئی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری ریکوڈک منصوبے میں اہم معدنیات کی کان کنی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ ایگزم بینک آئندہ برسوں کے دوران تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کے جدید کان کنی آلات اور خدمات پاکستان کو فراہم کرے گا تاکہ منصوبے کو مکمل طور پر فعال بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے امریکا میں چھ ہزار جبکہ بلوچستان میں تقریباً ساڑھے سات ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ ریکوڈک منصوبہ کان کنی کی عالمی صنعت کے لیے ایک ماڈل کے طور پر سامنے آئے گا اور اس کے فوائد امریکی برآمد کنندگان، پاکستانی شراکت داروں اور مقامی کمیونٹیز تک پہنچیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اقتصادی تعاون کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا ہے اور پاکستان کے ساتھ اس شعبے میں مزید شراکت داری کی خواہش رکھتی ہے۔

ریکوڈک بلوچستان کے معدنیاتی ذخائر کا سب سے اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جہاں 1970 کی دہائی میں وسیع ذخائر دریافت کیے گئے تھے۔ کئی دہائیوں تک قانونی تنازعات اور مالی مسائل کے باعث یہ منصوبہ رکا رہا، تاہم 2022 کے آخر میں نئے معاہدے کے تحت کام دوبارہ شروع ہوا۔ معاہدے کے مطابق بلوچستان حکومت کے پاس 25 فیصد، وفاق کے پاس 25 فیصد جبکہ کینیڈا کی بیرک گولڈ کے پاس 50 فیصد شیئر ہیں۔

بیرک گولڈ نے 2028 تک پیداوار شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور اس وقت ریکوڈک کے علاقے میں کھدائی اور سروے کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ دوسری جانب منصوبے کے لیے مزید سرمایہ کاری کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں، جن میں سعودی کمپنی منارا منرلز کی ممکنہ شمولیت بھی شامل ہے۔

بیرک گولڈ کے سی ای او مارک برسٹو کے مطابق منصوبے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل پر سالانہ چار لاکھ ٹن تانبے کی پیداوار ممکن ہو گی۔ پہلے مرحلے پر تقریباً 5.5 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور 2028 سے سالانہ دو لاکھ ٹن کاپر کنکریٹ اور ڈھائی لاکھ اونس سونے کی پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔