28

گورنر خیبر پختونخوا کا گورنر راج سے متعلق مشروط اشارہ، صوبائی حکومت کے رویّے پر تحفظات کا اظہار

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے اور اس کا نفاذ صوبائی حکومت کے طرزِعمل پر منحصر ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے، تو حالات گورنر راج کی طرف جا سکتے ہیں۔

گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت سے مکمل تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبائی انتظامیہ نے وفاق کے ساتھ تعاون نہ کیا تو یہ اقدام امن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے حالیہ جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پشاور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہوم گراؤنڈ ہونے کے باوجود جلسے میں عوام کی کم تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی بیانیہ عوام میں مقبول نہیں ہو رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پرجوش تقاریر کرنے والے وزرا خود کتنے لوگ جلسے میں لا سکے؟

گورنر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حالیہ بیانات میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، تاہم صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ بالآخر صوبائی حکومت کے طرزِعمل سے جڑا ہوا ہے اور اسے اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کے باوجود اگر آپریشن روکا گیا تو اس سے غلط پیغام جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ ان کی قید کے دوران ملک میں افراتفری پھیلے۔

فیصل کریم کنڈی نے بانی پی ٹی آئی کے پختون اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا انہوں نے محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان سے معافی مانگی ہے؟

گورنر نے زور دیا کہ صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا تاکہ خیبر پختونخوا میں امن قائم رہے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رہیں۔