غزہ کے جنوب میں ’القوات الشعبیہ‘ کے کمانڈر یاسر ابو شباب کی ہلاکت کے بعد اُن کے ممکنہ جانشین غسان الدہینی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد وہ حماس کے خلاف لڑتے رہیں گے اور تنظیم کو مکمل ختم کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق رفح میں ہونے والی جھڑپ کے دوران ابو شباب مارا گیا جبکہ الدہینی زخمی ہوا اور اسے عسقلان کے برزیلائی اسپتال منتقل کیا گیا۔ دو روز قبل الدہینی ابو شباب کے جنازے میں بھی شریک ہوئے تھے۔
’القوات الشعبیہ‘ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں الدہینی متعدد مسلح افراد کے درمیان نظر آ رہے ہیں۔ وہ سابق فلسطینی سیکیورٹی افسر ہیں اور تنظیم کی قیادت کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
جمعے کی شب اسرائیلی ٹی وی ’چینل 12‘ کو دیے گئے انٹرویو میں الدہینی نے کہا، "اگر اسرائیلی فوج غزہ سے نکل گئی تو ہم حماس کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے اور اسے مکمل طور پر ختم کیے بغیر نہیں رکیں گے۔" انہوں نے کہا کہ حماس اب اتنی کمزور ہے کہ کسی بھی گروہ پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
واضح رہے کہ یاسر ابو شباب مشرقی رفح میں ایک تنازع کے دوران مارا گیا تھا، اور ’’القوات الشعبیہ‘‘ اس علاقے میں سرگرم ہے جو اسرائیلی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ سرگرمی امریکا کی سرپرستی میں 10 اکتوبر 2025 کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے جاری ہے۔









