40

ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے تین پولیس اہلکار برطرف

ڈیوٹی کے دوران سوشل میڈیا ویڈیو بنانے والے تین پولیس اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں وائرل ہونے والی ٹک ٹاک ویڈیو کے بعد لیا گیا۔

ترجمان پولیس کے مطابق کانسٹیبل شاہد، بلال اور عثمان نے باضابطہ ڈیوٹی کے دوران یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیو ریکارڈ کی، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی۔ واقعہ سامنے آنے پر ایس پی شہربانو نقوی نے فوری انکوائری کے بعد تینوں اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یونیفارم میں تفریحی ویڈیوز بنانا نہ صرف ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، اس لیے ایسے معاملات میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے بھی اہلکاروں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روک رکھا ہے اور واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کوئی بھی افسر یا اہلکار یونیفارم میں ویڈیو نہیں بنا سکتا۔ انہی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر اسلام آباد پولیس دو اہلکاروں—آفتاب احمد اور احتشام اسلم—کو بھی معطل کر چکی ہے، جن پر بدتمیزی اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔