94

پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان مال بردار ٹرین سروس 31 دسمبر سے بحال کرنے کا اعلان

 حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد، تہران اور استنبول کے درمیان بند پڑی مال بردار ٹرین سروس کو 31 دسمبر 2025 سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ تینوں ممالک کے درمیان تجارتی، انتظامی اور لاجسٹک مسائل کے حل کے بعد کیا گیا ہے، جو 2022 سے اس منصوبے کی بندش کا باعث بنے ہوئے تھے۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ اسلام آباد، تہران، استنبول (آئی ٹی آئی) فریٹ ٹرین کی بحالی خطے میں تجارت کے فروغ اور پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ان کے مطابق یہ ٹرین اشیائے خوردونوش، صنعتی سامان اور تجارتی اشیاء کی ترسیل کے لیے ایک تیز اور کم لاگت ذریعہ فراہم کرے گی، جس سے تینوں ممالک کے کاروباری طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس منصوبے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور قازقستان کے درمیان چمن کے راستے نئی ریلوے لائن بچھانے کے معاہدے پر بھی عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے، جو وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کو مزید وسعت دے گا۔

مزید برآں ریلوے کے دیگر اہم منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ روہڑی تا کراچی ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام جولائی 2026 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے شروع کیا جائے گا، جس سے اس مصروف ترین ریلوے لائن پر رفتار، تحفظ اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اسی طرح، شالیمار ایکسپریس کو جدید سہولتوں کے ساتھ 7 نومبر سے دوبارہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کراچی اور لاہور کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو آرام دہ اور معیاری سفری سہولت میسر آ سکے۔

حنیف عباسی کے مطابق پاکستان ریلوے نے حالیہ عرصے میں اپنی کارگو سروسز کے ذریعے 4.5 ارب روپے کی آمدنی حاصل کی ہے، جو ریلوے کے مالی استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔

حکومت کو امید ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ریلوے کا نظام بھی جدید اور مؤثر بنیادوں پر استوار کیا جا سکے گا۔