وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اپریل 2025 تک 11 لاکھ غیر قانونی افغان شہریوں کو واپس بھیج چکی ہے، جن میں سے 4 لاکھ افراد کو طورخم بارڈر کے ذریعے واپس بھیجا گیا۔
لاہور میں قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صورتحال مختلف ہے جہاں غیر قانونی افغان باشندوں کو ”پروٹیکشن“ دی جارہی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پشاور اور نوشہرہ میں قائم کیے گئے کیمپس باقاعدہ نوٹیفائی کیے گئے ہیں، جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیمپس اب بھی فعال ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وانا کیڈٹ کالج، اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اور دیگر کئی مقامات پر دہشتگرد حملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔ پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں دہشت گرد بھی افغان تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہر تھانے کے ایس ایچ او کو یہ ذمہ داری دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں موجود غیر قانونی افغان شہریوں کی نشاندہی کر کے انہیں واپس بھجوائیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سب سے پہلے ملک ہے، وفاقی حکومت کے فیصلے کو کے پی حکومت کو ماننا ہوگا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایک جانب معیشت بہتر ہو رہی ہے جبکہ دوسری جانب ملک مزید حملوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ غیر قانونی افغان شہری عزت کے ساتھ واپس چلے جائیں، ورنہ دوبارہ پاکستان آنے کی کوشش پر انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
ایئرپورٹ پر مسافروں کو روکے جانے کے حوالے سے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ 50 سے 60 افراد کو روزانہ آف لوڈ کیا جاتا ہے اور ایف آئی اے تمام ریکارڈ میڈیا کے ساتھ شیئر کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر 90 فیصد جھوٹی خبریں چلائی جارہی ہیں، بعض ایجنٹس غلط مہم چلا رہے ہیں، لیکن کچھ بھی ہو حکومت کسی شخص کو غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے نہیں دے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہم اپنے پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جو صحیح نوکری پر بیرون ملک جارہا ہے وہ بالکل جائے،انکو نہیں روکا جائے گا۔
ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک شخص ڈرائیونگ کے شعبے میں سعودی عرب جا رہا تھا جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں تھا اور اسے گاڑی چلانا بھی نہیں آتی تھی۔ “ہمیں اپنے سسٹم کو بھی درست کرنا ہوگا۔”









