سرحدی کشیدگی کے بعد 50 روز تک بند رہنے والا طورخم بارڈر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آج کھلنے کا امکان ہے۔ بندش کے دوران دونوں اطراف میں کارگو گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور امپورٹ، ایکسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے ہزاروں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔
کسٹم ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے جبکہ افغانستان سے کوئلہ اور خشک و تازہ پھل درآمد کیے جاتے ہیں۔ طورخم بارڈر سے یومیہ اوسطاً 85 کروڑ روپے کی دوطرفہ تجارت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ بارڈر کی بندش کے دوران افغانستان کو سات ہفتوں میں اربوں روپے کا نقصان ہوا، اور بارڈر کھلنے سے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔









