72

انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کا اسرائیل میں نئے میڈیا بلز پر تشویش کا اظہار

انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے اسرائیلی کابینہ کی جانب سے پیش کیے گئے دو نئے میڈیا بلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ قوانین منظور ہو گئے تو اسرائیل میں آزادیٔ صحافت شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔

نئے بلز، جنہیں ’الجزیرہ لاء‘ بھی کہا جا رہا ہے، اسرائیل میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ قانون کے نفاذ کی صورت میں اسرائیلی حکومت کو غیر ملکی میڈیا اداروں کو بند کرنے کا یکطرفہ اختیار حاصل ہو جائے گا۔

مزید برآں، ٹی وی چینلز، نیوز ویب سائٹس اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کو حکومت کے ساتھ رجسٹر کرانا ہوگا۔ نئے ضوابط کی خلاف ورزی پر کونسل کو میڈیا آؤٹ لیٹس کی رجسٹریشن منسوخ کرنے یا جرمانے عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

یہ قانون براڈکاسٹ میڈیا کی قانونی آزادی کو بھی محدود کر دے گا، جس کے نتیجے میں ٹیلی ویژن چینلز کو تجارتی طور پر آزاد رہنے کا حق ختم ہو جائے گا اور میڈیا میں کارپوریٹ یا سیاسی مداخلت کا دروازہ کھل جائے گا۔

انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ نے عالمی میڈیا کمیونٹی اور اسرائیلی حکومت سے اپیل کی ہے کہ آزادیٔ صحافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔