106

بچوں میں بھوک کی کمی ایک عام مسئلہ: طبی ہدایات اور قدرتی حل

بچوں میں بھوک کی کمی ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، خاص طور پر فعال اور متحرک بچوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ والدین اکثر بھوک بڑھانے والی ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، لیکن بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر روی ملِک گپتا کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ محفوظ نہیں ہے۔

ڈاکٹر گپتا نے وضاحت کی کہ بچوں کو بھوک بڑھانے والی دوا دینے سے کوئی دیرپا فائدہ نہیں ہوتا اور اس کے طویل استعمال سے سنگین سائیڈ افیکٹس پیدا ہو سکتے ہیں۔ "انڈین اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس" اور "امریکن اکیڈمی آف پیڈیئٹرکس" دونوں ہی ایسے اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

ان ادویات میں عام طور پر شامل "سائپروہپٹادین" بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے استعمال سے سر درد، الجھن، چڑچڑاپن، ہلکے چکر اور بعض اوقات الرجی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ طویل مدت میں یہ دوا جگر کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

ڈاکٹر گپتا والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کی بھوک بڑھانے کے لیے قدرتی اور محفوظ طریقے اپنائے جائیں۔ بچوں کے لیے متنوع اور مزیدار کھانے تیار کریں تاکہ ان کی دلچسپی بڑھے، اور کھانے پر کبھی زبردستی یا لالچ کے ذریعے مجبور نہ کیا جائے۔

مزید برآں، بچوں کو کھاتے وقت ٹی وی یا فون سے دور رکھیں تاکہ وہ کھانے پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ کھانے کا ماحول آرام دہ اور خوشگوار ہونا چاہیے تاکہ بچے قدرتی طور پر صحت مند عادات اپنائیں۔

ڈاکٹر گپتا کا کہنا ہے کہ کم بھوک کی بعض وجوہات نیند کی کمی بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے بچے کی نیند پوری ہونا ضروری ہے۔ اگر بچوں کی بھوک کی کمی مستقل مسئلہ بن جائے تو والدین کو فوری طور پر ماہر بچوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ مکمل جانچ کے بعد مناسب علاج اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔