55

کراچی میں ایک اور ٹارگٹڈ حملہ؟ نیند سے جگا کر قتل کرنے کی واردات

کراچی: (کرائم ڈیسک) گلشن معمار کے علاقے ناردرن بائی پاس کے قریب ایک گھر میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص دورانِ علاج جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا جہاں مسلح افراد نے اوطاق (مہمان خانے) میں گھس کر سوئے ہوئے مہمان پر گولیاں چلا دیں۔

ایس ایچ او گلشن معمار انسپکٹر غلام یاسین کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 40 سالہ نور بہادر ولد حیات خان کے نام سے ہوئی ہے، جو مہمند ایجنسی، خیبر پختونخوا کا رہائشی تھا۔
نور بہادر اپنے رشتے دار کے انتقال پر فاتحہ خوانی کے لیے کراچی آیا تھا اور اپنے قریبی عزیز وقاص کے گھر مقیم تھا، جس کا لکڑیوں کا ٹال بھی وہیں واقع ہے۔

مسلح افراد نے دروازہ کھلوا کر براہِ راست فائرنگ کی

وقاص کے مطابق رات تقریباً 4 بجے پانچ سے چھ مسلح افراد آئے، اوطاق کے دروازے پر دستک دی اور اندر گھستے ہی پوچھا کہ کون سویا ہوا ہے۔
وقاص نے بتایا کہ “میرا مہمان ہے، مہمند ایجنسی سے آیا ہے” تو مسلح افراد نے اصرار کیا کہ اسے فوراً جگایا جائے۔
اسلحے کے دباؤ میں آکر وقاص نے نور بہادر کو آواز دی، اور جیسے ہی وہ نیند سے اٹھا، ملزمان نے اس پر براہِ راست فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہوگئے۔

زخمی شخص کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

واقعہ ذاتی رنجش یا ڈکیتی؟بیان مختلف

پولیس کے مطابق واقعہ بظاہر ذاتی رنجش کا نتیجہ لگتا ہے، تاہم مقتول کے رشتے داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ گھر میں 15 سے زائد ڈاکو داخل ہوئے اور مزاحمت پر فائرنگ کی گئی۔

ورثا کا پولیس پر سنگین الزام

مقتول کے اہلخانہ کے مطابق مددگار 15 پر کئی بار کال کے باوجود نہ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور نہ ہی صبح 8 بجے تک اسپتال آئی۔
نور بہادر کی لاش قانونی کارروائی کے بعد مہمند ایجنسی روانہ کر دی گئی۔