آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے ڈھانچے پر وسیع نظرِ ثانی شروع کر دی ہے اور اس عمل کی قیادت سابق کیوی بیٹر راجر ٹووز کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اس فارمیٹ کو زیادہ منصفانہ، سادہ اور تجارتی اعتبار سے مضبوط بنایا جائے۔ موجودہ نظام کے بارے میں خود انگلینڈ اینڈ ویلز بورڈ کے چیئرمین اعتراف کر چکے ہیں کہ یہ ڈھانچہ اپنی اصل روح کے مطابق نتائج نہیں دے پا رہا۔
دلچسپ طور پر ٹیسٹ کرکٹ کو دو ڈویژنز میں تقسیم کرنے کی تجویز، جس پر کئی برس سے بات ہوتی رہی، باضابطہ طور پر ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وجہ سادہ ہے: چھوٹی ٹیموں کی مالی بقا اور بڑی ٹیموں کے درمیان مقبول ترین سیریز کا بزنس ماڈل—اگر کوئی بڑی ٹیم تنزلی کا شکار ہوئی تو اربوں روپے کے نشریاتی معاہدے ہل سکتے تھے۔
اب نیا امکان یہ ہے کہ چیمپئن شپ کو 12 ٹیموں تک بڑھا دیا جائے، جس میں آئرلینڈ، افغانستان اور زمبابوے بھی شامل ہوں۔ یوں پہلی مرتبہ تمام فل ممبرز ایک ہی عالمی لیگ میں حصہ لیں گے۔ ہر ٹیم کے لیے کم از کم 12 ٹیسٹ میچوں کی شرط برقرار رہے گی، لیکن سیریز کو ایک سے پانچ میچوں کے درمیان رکھنے کی آزادی مل سکتی ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اپنے چوتھے سائیکل میں داخل ہو چکی ہے، اور کسی حتمی فیصلے کی توقع مارچ سے قبل نہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے: عالمی ٹیسٹ کرکٹ اپنی بقا اور مقبولیت کے درمیان نیا توازن تلاش کر رہی ہے—اور یہ بحث اب پہلے سے زیادہ سنجیدہ ہو چکی ہے۔









