36

افغان بارڈرز کی بندش، پاک افغان تجارت میں بڑی کمی

پاکستان اور افغانستان کے بارڈرز کی بندش کے سبب دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق اکتوبر 2025 میں سالانہ بنیادوں پر پاک افغان دوطرفہ تجارت میں 54 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر اکتوبر میں یہ کمی 36 فیصد رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات میں 28 فیصد کمی ہوئی، اور سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اکتوبر 2025 میں افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز رہیں، جبکہ ستمبر میں یہ رقم 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز تھی اور اکتوبر 2024 میں 13 کروڑ ڈالرز تھی۔

اسی طرح اکتوبر 2025 میں افغانستان سے پاکستانی درآمدات 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز رہیں، جو ستمبر میں 9 کروڑ 60 لاکھ اور اکتوبر 2024 میں 11 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز تھیں، جس سے درآمدات میں بھی واضح کمی ظاہر ہوتی ہے۔

کل اکتوبر 2025 میں پاک افغان دوطرفہ تجارت کا حجم 11 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز رہا، جبکہ ستمبر میں یہ 17 کروڑ 70 لاکھ اور اکتوبر 2024 میں 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ کراسنگ پوائنٹس کو سکیورٹی صورتحال کے باعث 12 اکتوبر سے غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کے اثرات تجارت پر واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔