بیجنگ میں واقع شینزین کی بایوسائنس اسٹارٹ اپ لونوی کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی گولی تیار کی ہے جو انسانی زندگی کو ممکنہ طور پر 150 سال تک بڑھا سکتی ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر سائنس اور طب کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق اس گولی کا بنیادی جزو PCC1 ہے، جو انگور کے بیجوں سے حاصل کیا جانے والا ایک مالیکیول ہے۔ یہ مالیکیول عمر رسیدہ خلیوں کو دوبارہ فعال کرنے اور جسم میں سوزش کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ابتدائی تجربات چوہوں پر کیے گئے جن میں حیران کن نتائج سامنے آئے۔ سائنسدانوں نے بتایا کہ اس گولی نے چوہوں کی اوسط عمر میں 9.4 فیصد اضافہ کیا، جبکہ طویل مدتی تجربات میں 64.2 فیصد تک بہتری ریکارڈ کی گئی۔
لونوی بایوسائنسز کا کہنا ہے کہ اگر یہ گولی انسانی تجربات میں بھی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف عمر میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ بڑھتی عمر سے منسلک بیماریوں — جیسے دل کی بیماریاں، ذیابیطس اور دیگر مسائل — کے اثرات کو بھی کم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے چین کی موجودہ اوسط متوقع عمر 79 سال میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
اس پیش رفت کو سائنسدان مستقبل کی طب کا اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس گولی کی مکمل حفاظت، طویل مدتی اثرات اور ممکنہ خطرات جاننے کے لیے مزید وسیع تحقیق اور انسانی ٹرائلز ضروری ہیں۔
یہ دریافت بلاشبہ انسانی صحت کے شعبے میں ایک نئے باب کی طرف اشارہ کرتی ہے، مگر اس کے عملی نتائج آنے والے سالوں میں سامنے آئیں گے۔









