ستائیسویں آئینی ترمیمی بل 2025 پر غور کے لیے پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کی مشترکہ کمیٹیوں کا اہم اجلاس آج دوبارہ طلب کر لیا گیا ہے۔
اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں ہوگا، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین چودھری محمود بشیر ورک بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس بند کمرہ ہوگا اور اس میں بل کی تمام شقوں پر تفصیلی بحث اور شق بہ شق جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بل کی ہر شق کی آئینی، قانونی اور انتظامی حیثیت کا باریک بینی سے مطالعہ کریں۔
گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے باعث بحث ادھوری رہ گئی تھی، تاہم آج کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے دیگر نمائندے بل کے مختلف پہلوؤں پر اپنی سفارشات پیش کریں گے۔
مجوزہ ترمیم میں عدالتی اصلاحات، پارلیمانی اختیارات اور وفاقی و صوبائی تعلقات کے حوالے سے اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر سفارشات کی حتمی رپورٹ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔









