بین الاقوامی محققین نے انسانی معدے کی خلیات کو جینیاتی طور پر دوبارہ پروگرام کر کے ایسے خلیات میں تبدیل کیا ہے جو انسولین پیدا کر سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس، خاص طور پر قسم اول کی ذیابیطس، کے علاج میں نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
تحقیق کا پس منظر:
ذیابیطس قسم اول اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب لبلبہ (Pancreas) کے بیٹا خلیات انسولین بنانے میں ناکام ہو جائیں۔ محققین نے انسانی معدے کی آرگنوئڈز تیار کیں اور جینیاتی سوئچ کے ذریعے انہیں انسولین پیدا کرنے والے خلیات میں تبدیل کیا۔
تجرباتی نتائج:
ابتدائی تجربات چوہوں پر کیے گئے، جہاں یہ تبدیل شدہ خلیات انسولین پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے اور ذیابیطس کی علامات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
مستقبل کے امکانات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسانی مریض کی اپنی معدے کی خلیات استعمال کر کے جسم میں انسولین پیدا کرنے والا نظام بنایا جا سکتا ہے، جس سے روزانہ کے انجیکشن کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم، انسانی استعمال کے لیے اس طریقے کی حفاظت اور مؤثریت ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔









