146

خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کی ملک بدر کارروائیاں تیز

خیبرپختونخوا میں افغان مہاجر کیمپس ختم کیے جانے کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف آپریشن میں شدت آ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے دوران اب تک 67 ہزار 601 افغان شہری پاکستان سے واپس روانہ کیے جا چکے ہیں۔ خاص طور پر 19 اکتوبر کو 2 ہزار 56 افغان شہری اپنی سرزمین واپس بھیجے گئے، جن میں 219 پی او آر کارڈ ہولڈرز بھی شامل تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 14 لاکھ 13 ہزار 906 افغان شہری پاکستان سے واپس جا چکے ہیں، جن میں ایک لاکھ 63 ہزار 253 پی او آر کارڈ ہولڈرز اور 80 ہزار اے سی سی ہولڈرز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی ہدایت پر رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کی مرحلہ وار واپسی کا عمل جاری ہے، جبکہ غیر قانونی قیام کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستانی حکام کی جانب سے قانونی اور سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، تاہم انسانی اور سماجی پہلوؤں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ملک بدر ہونے کے نتیجے میں نہ صرف انسانی مشکلات کا سامنا کرے گی بلکہ مقامی معاشرتی ڈھانچے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت صرف سیکورٹی کے زاویے سے افغان شہریوں کی واپسی پر توجہ دے رہی ہے یا ان کے تحفظ، روزگار اور بنیادی ضروریات کا بھی مناسب انتظام کیا جا رہا ہے؟ سماجی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انسانی بنیادوں پر اقدامات کیے بغیر یہ آپریشن طویل المدتی مسائل پیدا کر سکتا ہے، جس میں مقامی اور مہاجرین دونوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔