163

پاکستان نے قطر کو آئندہ سال کی ایل این جی طلب کا پلان دے دیا

پاکستان نے قطر سے درآمدی ایل این جی (Liquefied Natural Gas) کے سرپلس ہونے کے معاملے پر آئندہ سال 2026 کی طلب کا جامع پلان قطری حکام کو فراہم کر دیا ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے 2026 کے لیے 29 کارگوز مؤخر کرنے کی تجویز قطر کو بھجوا دی ہے۔ قطر کے حکام کو 31 دسمبر 2025 تک اس تجویز پر اپنا باضابطہ جواب دینا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی معاہدے کے تحت پاکستان ہر سال 108 ایل این جی کارگوز درآمد کرتا ہے۔ تاہم پاور سیکٹر میں طلب میں نمایاں کمی کے باعث پاکستان نے 2026 کے لیے صرف 79 کارگوز کی درآمد کی تجویز پیش کی ہے۔

حکام نے بتایا کہ مئی سے اکتوبر 2026 کے دوران 18 کارگوز اور جنوری سے اپریل کے دوران 11 کارگوز مؤخر کرنے کا پلان قطر کو دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر قطر نے پاکستان کی تجویز سے اتفاق نہ کیا تو پاکستان کو معاہدے کے مطابق مکمل کوٹے یعنی تمام 108 کارگوز درآمد کرنے ہوں گے۔

وزارت پیٹرولیم کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی درآمدی معاہدہ 2031 تک نافذالعمل ہے جس کے تحت پاکستان ہر ماہ نو کارگوز درآمد کرتا ہے۔ معاہدے کے مطابق ہر سال کا درآمدی پلان پیشگی طور پر قطر کو فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

مزید برآں حکام کے مطابق رواں سال حکومت نے درآمدی ایل این جی سے گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کر دی ہے تاکہ توانائی کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔