ترکیہ میں مقیم ایک سابق عراقی سنار علی زمان نے چھ سال کی طویل محنت کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآنِ پاک تیار کرلیا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق، علی زمان کا تعلق عراق کے شہر سلیمانیہ سے ہے، جنہیں بچپن ہی سے اسلامی خطاطی کا شوق تھا۔ انہوں نے 2013 میں سنار کا پیشہ چھوڑ کر مکمل طور پر خطاطی کے فن کو اپنایا، اور 2017 میں اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ استنبول منتقل ہوگئے تاکہ اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔
علی زمان نے محرمہ سلطان مسجد کے ایک چھوٹے سے کمرے میں روزانہ کئی گھنٹے کام کرتے ہوئے قرآنِ پاک کے صفحات تیار کیے، جن کی لمبائی 4 میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر خود فنڈڈ تھا۔
انہوں نے کسی جدید آلے یا مشین کا استعمال نہیں کیا بلکہ ہر حرف کو روایتی قلم (Reed Pen) سے انتہائی محنت اور باریکی سے تحریر کیا۔
ترک میڈیا کے مطابق، یہ نسخہ دنیا کے سابقہ سب سے بڑے قرآنِ پاک سے بھی بڑا ہے، جس کے صفحات کی لمبائی 2.28 میٹر اور چوڑائی 1.55 میٹر تھی۔
علی زمان کو شام، ملائیشیا، عراق اور ترکیہ میں خطاطی کے کئی بین الاقوامی ایوارڈز مل چکے ہیں۔ انہیں 2017 میں ترکیے کے انٹرنیشنل Hilye-i Serif مقابلے میں صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے “Distinction Award” بھی دیا گیا تھا۔
علی زمان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، اور ان کا خاندان اس قرآنِ پاک کے نسخے کو ترکیہ میں ہی محفوظ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ یہ اسلامی فنِ خطاطی کی روایت کو ہمیشہ زندہ رکھے۔









