152

موٹاپا جسم کے ساتھ ذہن کے لیے بھی خطرناک، نئی تحقیق

حالیہ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ موٹاپا نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وزن میں اضافہ ڈپریشن، اینزائٹی اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق موٹاپے اور ڈپریشن کے درمیان ایک مضبوط تعلق موجود ہے۔ جب کوئی شخص اپنی جسمانی شکل سے مطمئن نہیں ہوتا یا سماجی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، تو اس کے ذہنی سکون پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ایسے میں اکثر افراد غصے، بے چینی یا دباؤ سے نمٹنے کے لیے زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں، جس سے وزن مزید بڑھ جاتا ہے اور ایک منفی سائیکل شروع ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپا خود اعتمادی کو کم کرتا ہے کیونکہ موٹے افراد کو اکثر معاشرتی سطح پر تمسخر یا طنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ تنہائی اور افسردگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جسم میں چربی کے بڑھنے سے دباؤ کے ہارمونز جیسے کوریسٹرول اور کینیین کی سطح میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو ذہنی سکون اور خوشی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نیند کی کمی اور نیند کے مسائل بھی موٹاپے سے جڑے ہوئے ہیں، جو دماغی کارکردگی اور مزاج پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک موٹاپے کا شکار افراد میں ذہنی بیماریوں جیسے ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور ورزش کے ذریعے جسمانی اور ذہنی تندرستی کو برقرار رکھا جائے۔