135

ڈکی بھائی رشوت کیس میں بڑی پیش رفت

ڈکی بھائی سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے 6 افسران سے 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کرلیے گئے، جبکہ ملزمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

رشوت کے الزام میں گرفتار افسران کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ضلع کچہری لاہور میں پیش کیا گیا، جہاں ایف آئی اے نے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کیس کی سماعت کی۔

ملزمان کی جانب سے رانا معروف ایڈووکیٹ اور فاروق باجوہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈکی بھائی کے 3 لاکھ 420 ڈالر اپنے بائنانس اکاؤنٹ میں منتقل کیے، تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد موجود نہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، ملزم علی رضا سے 70 لاکھ روپے، زوار سے 9 لاکھ روپے، یاسر گجر سے 19 لاکھ روپے، شعیب ریاض سے 36 لاکھ 48 ہزار روپے، جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے ایک کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کیے گئے۔

ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تمام گرفتار افسران کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تفتیش بھی شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان تربیت یافتہ اہلکار ہیں، اس لیے ان سے تحقیقات میں وقت درکار ہے۔

عدالت نے وکلا اور تفتیشی افسر کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔