91

چین میں زمین ہلانے والی قوت کا انکشاف

محققین نے ایک بڑے شہابِ ثاقب حملے کی تصدیق کی ہے جس نے تقریباً 10,000 سال قبل جنوبی چین کے گوانگ ڈونگ صوبے میں ایک نمایاں گڑھا پیدا کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ زمین کی ساخت، ماحول اور مقامی ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا باعث بنا۔

رپورٹس کے مطابق ژاؤ چنگ شہر کے قریب واقع جنلن گڑھا (Junlin Crater) چین میں شہابی پتھر کے تصدیق شدہ پانچویں مقام کے طور پر سامنے آیا ہے اور جنوبی چین کے علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔ تقریباً 2,950 فٹ قطر پر پھیلا یہ گڑھا ماہرین کے مطابق درجنوں ایٹم بموں کے برابر توانائی کے دھماکے سے وجود میں آیا۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے “Matter and Radiation at Extremes” میں شائع ہوئی، جس میں سائنس دانوں نے اس گڑھے کی تشکیل کو ایک زبردست شہابی تصادم (Bolide Impact) سے منسوب کیا ہے۔

سینٹر فار ہائی پریشر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ محقق چن منگ نے بتایا کہ اس ٹکراؤ سے تقریباً 600,000 ٹن TNT کے برابر توانائی خارج ہوئی — جو ہیروشیما پر گرائے گئے 40 ایٹم بموں کے مساوی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے تصادم سے نہ صرف زمین کی ساخت تبدیل ہوئی بلکہ مقامی آب و ہوا اور ماحولیاتی نظام میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

تحقیق کے مطابق، اس دور میں ایک بڑے سیارچے کے زمین سے ٹکرانے سے اردگرد کے ماحول میں بڑی تبدیلیاں ممکن تھیں، جو خطے کے جغرافیائی توازن پر دیرپا اثرات چھوڑ گئیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنلن گڑھے کی یہ دریافت زمین کی تاریخ میں شہابی پتھروں کے اثرات کو سمجھنے میں ایک نئی راہ ہموار کرے گی۔