93

اے آئی چیٹ بوٹس انسان کو حقیقت سے دور اور اسکرین کا عادی بنا رہے ہیں: ماہرینِ نفسیات

ماہرینِ نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس سے غیر ضروری بات چیت اور مشورے لینے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو انسان کو سماجی طور پر تنہا، ذہنی طور پر کمزور اور جذباتی طور پر غیر متوازن بنا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کردہ ایک بلاگ پوسٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر ہفتے ایک ملین سے زائد چیٹ جی پی ٹی صارفین ایسے پیغامات بھیجتے ہیں جن میں ممکنہ خودکشی کے ارادے یا منصوبے کے اشارے پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد میں ڈپریشن، انزائٹی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی نے گفتگو کے دوران کہا کہ اے آئی کے درست استعمال سے کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، مگر اس کے غیر ضروری استعمال کے معاشرتی اور ذہنی اثرات تشویش ناک ہیں۔ ان کے مطابق، “اے آئی نے انسان کو سوشل آئسولیٹ کر دیا ہے۔ پہلے فیملیز اکٹھی بیٹھ کر بات کرتی تھیں، مگر اب لوگ مشینوں سے گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ جب دماغ استعمال نہیں ہوتا تو اس کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔”

ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ “پہلے لوگ جسمانی اور ذہنی طور پر سرگرم رہتے تھے، مگر اب سب کچھ خودکار ہونے سے ذہنی جمود بڑھ رہا ہے۔ دماغی صحت کے لیے جسمانی حرکت اور فطری میل جول ناگزیر ہے۔ چیٹ بوٹس سے بات چیت میں ہمدردی اور سچائی کا عنصر نہیں ہوتا، اسی لیے ان کے زیادہ استعمال سے ڈپریشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔”

کلینیکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر اسما احمد نے کہا کہ اے آئی چیٹ بوٹس فوری جوابات تو فراہم کرتے ہیں، لیکن ان پر زیادہ انحصار انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ “لوگ اب اپنے مسائل دوسروں سے شیئر کرنے کے بجائے مشینوں سے بات کرتے ہیں، جس سے ان میں تنہائی اور جذباتی خلا بڑھ رہا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ کچھ صارفین چیٹ بوٹس کے ساتھ جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگے ہیں، جو ذہنی صحت کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ “یہ تعلق مصنوعی ہے، کیونکہ چیٹ بوٹس کے پاس احساسات نہیں ہوتے۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو قابو میں رکھنے کے لیے “ڈیجیٹل ڈیٹاکسیفکیشن” ضروری ہے — روزانہ اسکرین ٹائم محدود کیا جائے، غیر ضروری چیٹ سے پرہیز کیا جائے، اور حقیقی انسانی تعلقات کو ترجیح دی جائے۔

ڈاکٹر اقبال آفریدی نے مشورہ دیا کہ “اے آئی کو تعلیم، تحقیق یا ڈیٹا تجزیے تک محدود رکھا جائے، جبکہ روزمرہ کے مشورے اور ذاتی گفتگو کے لیے انسان ہی بہترین ساتھی ہے۔ انسان کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔”