جاپان میں ایک ایسا ناقابلِ یقین واقعہ سامنے آیا جس نے سب کو حیران کر دیا — ایک عام ٹرک ڈرائیور کو معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، مگر پیدائش کے فوراً بعد اسپتال کی غلطی کے باعث اسے ایک دوسرے بچے سے بدل دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ 1953 میں پیش آیا تھا، مگر اس کی حقیقت تقریباً 60 سال بعد سامنے آئی۔ عدالت نے 2013 میں اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اسپتال کو حکم دیا کہ وہ متاثرہ شخص کو 3 کروڑ 80 لاکھ جاپانی ین (تقریباً ڈھائی لاکھ ڈالر) بطور زرِ تلافی ادا کرے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امیر خاندان کے چھوٹے بیٹوں نے اپنے بڑے بھائی کے رویے پر شک ظاہر کیا۔ والدہ کے انتقال کے بعد بڑے بھائی نے نہ صرف والد کے حصے پر قبضہ کیا بلکہ انہیں نرسنگ ہوم بھیج دیا۔ اسی دوران بھائیوں کو یاد آیا کہ والدہ نے زندگی کے آخری دنوں میں ذکر کیا تھا کہ بڑے بھائی کو پیدائش کے بعد ایک نرس نہلانے کے لیے لے گئی تھی۔
شک کی بنیاد پر چھوٹے بھائیوں نے بڑے بھائی کے سگریٹ کے ٹکڑے حاصل کیے اور 2009 میں ڈی این اے ٹیسٹ کروایا، جس کے نتائج نے سب کو چونکا دیا — وہ ان کے خاندان سے حیاتیاتی طور پر متعلق نہیں تھا۔
مزید تحقیقات کے دوران اسپتال کے ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ اصل میں ایک دوسرے بچے — یعنی موجودہ ٹرک ڈرائیور — کو غلطی سے اس امیر خاندان کے بیٹے سے بدل دیا گیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر، ڈرائیور کی پیدائش اس دوسرے بچے سے صرف 13 منٹ پہلے ہوئی تھی۔
غریب گھرانے میں پرورش پانے والے اس شخص نے مشکلات سے بھری زندگی گزاری۔ والد کا انتقال محض دو سال کی عمر میں ہوگیا، گھر میں بنیادی سہولیات تک میسر نہ تھیں، اور تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوری بھی کرنا پڑی۔
اسے اکثر ماں اور پڑوسیوں کی جانب سے یہ سننے کو ملتا تھا کہ وہ اپنے والدین جیسا نہیں لگتا۔
ادھر وہ بچہ جو غلطی سے امیر گھرانے میں پہنچ گیا تھا، بہترین تعلیم حاصل کرکے کمپنی کا سربراہ بن گیا، جبکہ اس کے تینوں بھائی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔
بدقسمتی سے جب اصل حقیقت سامنے آئی، اس وقت ٹرک ڈرائیور کے حیاتیاتی والدین دونوں وفات پا چکے تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ شخص کو پیدائش کے فوراً بعد اپنے حقیقی والدین سے جدا کر دیا گیا، جو ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ہے — اسی بنا پر اسپتال کو ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔
یہ حیرت انگیز کیس آج بھی جاپان میں یاد کیا جاتا ہے، اور حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جسے لوگ "حقیقت میں فلمی کہانی" قرار دے رہے ہیں۔









