شہر قائد میں مبینہ پولیس تشدد سے ایک اور قیمتی جان ضائع ہوگئی۔ ایس آئی یو پولیس کی حراست میں 22 سالہ نوجوان عرفان دم توڑ گیا، جس کے بعد اہلخانہ اور شہریوں نے انصاف کے لیے شدید احتجاج کیا۔
ذرائع کے مطابق عرفان کو بدھ کی صبح عائشہ منزل کے قریب تین دوستوں کے ہمراہ پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ جمعرات کی شام اہلخانہ کو اچانک اطلاع دی گئی کہ عرفان اب زندہ نہیں رہا۔ پولیس نے ورثا کو ایس آئی یو دفتر بلاکر نوجوان کی ہلاکت کی خبر دی۔
ورثا کے مطابق عرفان کا تعلق بہاولپور سے تھا اور وہ پہلی بار کراچی سیر کے لیے آیا تھا۔ عائشہ منزل پر دوستوں کے ساتھ ویڈیو بنا رہا تھا کہ اچانک پولیس نے مشکوک سمجھ کر حراست میں لے لیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ عرفان پر کسی جرم کا الزام تک نہیں تھا، پھر بھی پولیس نے نہ صرف تشدد کیا بلکہ موبائل فونز بند کر کے رابطہ بھی ختم کر دیا۔
جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے دوران عرفان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق، کیمیائی تجزیے کے لیے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں، حتمی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔
کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ایس ایس پی ایس آئی یو امجد شیخ کے مطابق، ابتدائی کارروائی میں ایک افسر سمیت 7 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ادھر ورثا اور شہریوں نے سی آئی اے سینٹر صدر کے باہر شدید احتجاج کیا، پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور وزیرِاعلیٰ سندھ سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، اور مجسٹریٹ کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔









