182

محمود اچکزئی کی بیٹی کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا مہنگا پڑ گیا

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صاحبزادی تاتیرہ اچکزئی (Thaterra Achakzai)کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا مہنگا پڑ گیا۔

 

تاتیرہ نے 16 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ پاکستان اسرائیل کا سستا ٹیمو ورژن ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی ریاست کے ہاتھ فری ورلڈ یعنی مغربی دنیا کے آقاؤں نے باندھ رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے ریاست پر دیگر الزام بھی لگائے۔

تاہم یہ تنازع اس وقت اور بڑھ گیا جب ایک دن بعد یعنی 17 اکتوبر کو بلوچستان یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا۔

یونیورسٹی آف بلوچستان کے اسسٹنٹ رجسٹرار(جنرل) کی جانب سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کے متن کے مطابق انھوں نے 16 اکتوبر کو صبح ساڑھے دس بجے ریاست مخالف بیانیے پر مشتمل ٹویٹ کیا۔

نوٹس کے مطابق یہ عمل ضابطہ اخلاق کے خلاف اور سنگین مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹویٹ آپ کے خلاف تادیبی کاروائی کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ آپ نے 2022 اور2024 میں جاری کیے جانے والی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔

نوٹس میں تاتیرہ اچکزئی سے کہا گیا ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر تحریری وضاحتی بیان جمع کروائیں ورنہ آپ کے خلاف یونیورسٹی آف بلوچستان کے قوانین کے تحت سخت کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر طارق جوگیزئی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خاتون لیکچرر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے لیگل ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ اگر کسی ملازم کو شوکاز نوٹس جاری ہو اور وہ انکار کرے تو انکوائری آفیسر مقرر کیا جاتا ہے جو خلاف ورزی ثابت ہونے پر مجرم قرار دیے سکتا ہے جس کے بعد سزا کا تعین کیا جاتا ہے اور ملازمت سے برطرفی بھی ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر تاتیرہ اچکزئی کے ٹوئٹ پر ملا جلا ردعمل سامنے آرہا ہے۔