سابق مس یونیورسٹی اور معروف بولی وڈ اداکارہ سشمیتا سین نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ پہلی بار بچی کو گود لے رہی تھیں، تب جج نے ان کے والد کو خبردار کیا تھا کہ مذکورہ عمل کے بعد کوئی بھی شریف لڑکا ان کی بیٹی سے شادی نہیں کرے گا۔
شوبز ویب سائٹ ’بولی وڈ شادیز‘ کے مطابق سشمیتا سین نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں دو دہائیاں قبل بچی کو گود لینے کی مشکلات پر کھل کر گفتگو کی۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں بیٹی کو گود لیا، اس وقت انہیں قانونی طور پر بالغ ہوئے، چند سال ہی گزرے تھے، اس لیے انہیں براہ راست بیٹی کو گود لینے کا اہل نہیں سمجھا جا رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 21 سال کی عمر میں بیٹی کو گود لینے کی درخواست دی تھی اور انہیں 24 سال کی عمر میں بیٹی دی گئی۔
سشمیتا سین کا کہنا تھا کہ بیٹی کو گود لیتے وقت ان کے والد سے ضمانتیں لی گئیں، ان کے والد نے متعدد دستاویزات پر دستخط کیے اور جائیداد بھی لکھ کر دی۔
ان کے مطابق ان کے والد نے انہیں سپورٹ کیا، ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ان کا ساتھ دیا اور انہوں نے 25 سال قبل سال 2000 میں بیٹی کو گود لیا۔
اداکارہ نے بتایا کہ اس وقت غیر شادی شدہ اور جوان لڑکیوں کی جانب سے بچوں کو گود لینا معیوب سمجھا جاتا تھا، اس لیے انہیں بیٹی سپرد کرنے کا کیس سننے والے جج نے بھی ان کے والد کو خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جج نے ان کے والد کو خبردار کیا کہ بیٹی گود لینے کے بعد کوئی بھی اچھا اور شریف لڑکا ان کی بیٹی سے شادی نہیں کرے گا، لوگ ان سے رشتہ کرنے سے کترائیں گے۔
سشمیتا سین نے بتایا کہ جج کی بات پر ان کے والد نے دل جیتنے والا جواب دیا اور کہا کہ انہوں نے بیٹی کی پرورش کسی مرد کی بیوی بننے کے طور پر نہیں کی۔
اداکارہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ انہیں خوف تھا کہ ان کی کم عمری کی وجہ سے انہیں بیٹی نہیں دی جائے گی لیکن ایسا نہ ہوا، انہیں بیٹی ملی اور پھر 2010 میں انہوں نے دوسری بیٹی کو بھی گود لیا۔
سشمیتا سین نے سال 2000 میں رینی نامی بیٹی جب کہ 2010 میں عالیشہ نامی بیٹی کو گود لیا تھا، اب ان کی بڑی بیٹی کی عمر 25 سال جب کہ چھوٹی بیٹی کی عمر 15 سال ہو چکی ہے اور اداکارہ نے خود تاحال شادی نہیں کی، ان کی عمر 45 سال سے زائد ہے.









