ایک بھارتی سیاح کی جانب سے شیئر کیا گیا ہوٹل کا نوٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس میں مبینہ طور پر بھارتی مہمانوں کو بوفے کھانے کے دوران بدتمیزی سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بھارتی سوشل میڈیا صارف "گبر" نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے قیام کے دوران پیش آنے والے تجربے کے بارے میں پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ:
"ہوٹل کا ناشتہ وہ جگہ ہے جہاں لوگوں کی اصل فطرت سامنے آتی ہے۔"
ان کی اس پوسٹ کے جواب میں ڈاکٹر ارشیت دھمناسکر نامی صارف نے اپنا مایوس کن تجربہ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ کچھ سال پہلے سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل میں اہل خانہ کے ساتھ مقیم تھے، جہاں کمرے کے دروازے کے پیچھے ایک طویل نوٹس چسپاں تھا۔
ارشیت کے مطابق نوٹس کا لب لباب یہ تھا:
"براہِ کرم بوفے کا کھانا اپنے بیگ یا پرس میں نہ ڈالیں، اگر آپ کو اضافی کھانے کی ضرورت ہے تو ہم آپ کو الگ سے پیکڈ فوڈ فراہم کر سکتے ہیں۔"
تاہم جس بات نے صارف کو سب سے زیادہ مایوس کیا، وہ یہ تھی کہ یہ نوٹس خاص طور پر بھارتی مہمانوں کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا۔
یہ دعویٰ منظرِ عام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ کچھ افراد نے پوسٹ کو نسلی تعصب قرار دیتے ہوئے ہوٹل انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا، تو کچھ نے واقعے کی صداقت پر سوالات اٹھائے۔
بعد ازاں، ڈاکٹر ارشیت نے صارفین کے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لیے ایک اور پوسٹ ری شیئر کی، جس میں ہرش گوئینکا نامی ایک اور بھارتی صارف نے بھی اسی نوعیت کے نوٹس کی تصویر شیئر کی تھی، جس میں یہی پیغام درج تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر سیاحت کے دوران مہمانوں کے رویے، ہوٹل مینجمنٹ کے طرزِ عمل، اور ثقافتی حساسیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔









