38

پاکستان کی کارروائیوں میں 200 سے زائد افغان فتنہ تول خوارج ہلاک ہوے : آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج نے 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب سرحدی علاقوں میں حملہ کیا جس میں فائرنگ اور چند مقامات پر دراندازی کی کوشش ہوئی۔ بیان کے مطابق یہ بزدلانہ اقدام سرحدی عدم استحکام پیدا کر کے دہشتگردانہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش تھی۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاک فوج نے فوراً اور فیصلہ کن طریقے سے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے حملے کو پسپا کیا اور افغان علاقے میں موجود طالبان کے کیمپس و پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں میں دہشتگردی کی تربیتی آماجگاہیں اور حمایتی نیٹ ورکس تباہ کیے گئے، جن میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش سے وابستہ عناصر بھی شامل تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائیوں میں سنگین جانی نقصان پہنچایا اور ابتدائی انٹیلیجنس اور نقصان کے تخمینے کے مطابق 200 سے زائد طالبان اور وابستہ دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ اس کے علاوہ، سرحدی پٹی پر متعدد طالبان مقامات کو تباہ کیا گیا اور 21 پوزیشنز پر وقتی طور پر قبضہ حاصل کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ فضائی ضربیں اور زمینی کارروائیاں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئیں اور غیر ضروری جانی نقصان سے بچنے کے تمام احتیاطی اقدامات کیے گئے۔

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاک فوج کی کاروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افواج نے افغانستان میں متعدد پوسٹس کو تباہ کرکے طالبان کو پسپا کیا۔ پاک فوج نے دعویٰ کیا کہ دشمن کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں 23 جوان شہید ہوئے، اور افواج اپنے عوام اور ملک کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

آئی ایس پی آر نے اس واقعے کے پس منظر میں کہا کہ پاکستان تعمیری سفارتکاری اور مکالمہ کو ترجیح دیتا ہے مگر افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تازہ جھڑپ اسی دوران ہوا جب طالبان کے وزیر خارجہ کا بھارت کا دورہ جاری تھا اور بھارت کو خطے میں دہشتگردی کا ایک بڑا سہولت کار قرار دیا گیا۔

قبل ازیں سعودی عرب اور قطر جیسی فریقین نے بھی پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رکھا ہے اور معاملات کو تحمل اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔