خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں قائم 40.8 میگاواٹ کا کوٹو پن بجلی منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جسے صوبے میں توانائی کے شعبے میں ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ منصوبے کی بجلی کی فروخت کے سلسلے میں پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
محکمہ توانائی کے مطابق، اس منصوبے سے سالانہ 207 گیگا واٹ آور سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کی جائے گی، جس سے خیبرپختونخوا کو ہر سال 2 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ اس بجلی کی فراہمی نیشنل گرڈ کو کی جائے گی، جو ملک میں جاری بجلی بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو گی۔
اس معاہدے کے تحت دونوں اداروں کے مابین Power Acquisition Contract پر دستخط کی ایک خصوصی تقریب واپڈا ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئر طارق سدوزئی، سابق صوبائی وزیر اور چیئرمین پیسکو بورڈ حمایت اللہ خان، سیکرٹری توانائی و برقیات زبیر خان، چیف ایگزیکٹو پیسکو اختر حمید، چیف انجینئر پیڈو عزیز باچا اور ڈائریکٹر جنرل میراد عاطف جواد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر طارق سدوزئی نے کہا کہ کوٹو پن بجلی منصوبے کی تکمیل نہ صرف صوبے کی معیشت کے استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہے، بلکہ یہ صاف اور سستی توانائی کی جانب سفر کا عملی آغاز بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے ایک طرف مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار بڑھے گی، تو دوسری جانب نیشنل گرڈ میں شمولیت سے ملک گیر سطح پر توانائی کی قلت کو کم کرنے میں خاطرخواہ مدد ملے گی









