خیبرپختونخوا کابینہ کا 39 واں اجلاس کل (جمعرات) صبح 11 بجے سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوگا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کریں گے۔ اجلاس کے لیے حکومت کی جانب سے 39 نکات پر مشتمل تفصیلی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، جس میں متعدد اہم سرکاری، ترقیاتی اور عوامی فلاحی امور زیر غور آئیں گے۔
ایجنڈے کے مطابق، اجلاس میں سابق فاٹا کے پراجیکٹس میں کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی پر غور کیا جائے گا جبکہ پیرول کمیٹی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی منظوری بھی متوقع ہے۔ زمین کی منتقلی پر عائد وفاقی ٹیکسز کو عدالت میں چیلنج کرنے کی اجازت کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
تعلیمی شعبے میں بہتری کے لیے کالجز میں اساتذہ کی عارضی بھرتیوں، خراب کارکردگی والے اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے اور اساتذہ کی تقرری و مستقلی ایکٹ 2022 میں ترامیم پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
محکمہ صحت سے متعلق ایجنڈے میں سیدو ہسپتال سوات اور خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے، تبادلوں و تقرریوں کی منظوری اور ایم ٹی آئی اپیلٹ ٹریبونل رولز 2020 میں ترامیم شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ اسکالرشپ میں اضافے اور واجبات کی ادائیگی، ماحولیاتی ٹریبونل کے چیئرمین کے لیے ایگزیکٹو الاؤنس، گندم خریداری، سٹریٹجک ذخائر اور کیش مینجمنٹ پالیسی 2025 کی منظوری بھی اجلاس میں متوقع ہے۔
سوات واقعے کے متاثرین کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، ایبٹ آباد حادثے کے متاثرین کو فوری امداد، اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے لیے ریلیف فنڈز کے استعمال کی اجازت پر بھی غور ہوگا۔
مزید برآں، گلیات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ارب روپے گرانٹ، پشاور اربن پلانٹیشن مہم کے فنڈز، اور بار ایسوسی ایشنز کے لیے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس میں متعدد پالیسی فیصلے، عوامی فلاحی اقدامات، انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی اسکیموں پر تفصیلی بحث و مشاورت متوقع ہے۔









