121

خاتون 2 دن سے زائد سانپوں والے کنویں میں رہ کر بھی زندہ بچ گئیں

اگر آپ سانپوں سے بھرے کسی کنویں گر جائیں اور مدد کے لیے بھی کوئی موجود نہ ہو تو پھر کیا کریں گے؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر جنوب مشرقی چین میں ایک خاتون کے ساتھ ایسا ہوا اور وہ 2 دنوں سے زائد وقت تک کنویں میں رہنے کے باوجود کرشماتی طور پر زندہ بچ گئی۔

48 سالہ چِن نامی خاتون صوبہ فوجیان کے علاقے Quanzhou کے قریب واقع ایک جنگل میں چہل قدمی کر رہی تھی۔

اس چہل قدمی کے دوران وہ حادثاتی طور پر ایک متروک کنویں میں گر گئی تھیں۔

خاتون کے گھر والوں کو ان کی گمشدگی کا علم اسی شام کو ہوگیا تھا مگر وہ انہیں تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے اگلے دن چِن کی گمشدگی کو رپورٹ کیا اور جن جیانگ ریوٹونگ بلیو اسکائی ایمرجنسی ریسکیو سینٹر کی جانب سے 10 افراد پر مشتمل ٹیم کو علاقے میں ایک تھرمل امیجنگ ڈرون کے ساتھ بھیجا گیا۔

امدادی ٹیم کے قائد ڈو شیاؤہینگ کے مطابق انہوں نے مدد کی کمزور پکار کو سنا جس کے بعد وہ اس متروک کنویں پر پہنچے۔

گھنی جھاڑیوں میں چھپے اس کنویں میں انہوں نے چِن کو دریافت کیا جن کے جسم کا کچھ حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ زرد انگلیوں نے سختی سے کنویں کی دیوار کو تھاما ہوا تھا۔

وہ 54 گھنٹوں تک اس جگہ پھنسی رہی جبکہ کنویں میں سانپ بھی موجود تھے۔

بعد ازاں چِن نے بتایا کہ وہ کس طرح خود کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ 'کئی بار تو میں مکمل طور پر ٹوٹ گئی، کنویں کی تہہ میں مکمل تاریکی تھی، مچھروں کے غول وہاں گھوم رہے تھے اور کچھ سانپ بھی قریب ہی تیر رہے تھے، میرا جسم مچھروں کے کاٹنے سے بھر گیا جبکہ میرے ایک ہاتھ پر ایک سانپ نے ڈسا، خوش قسمتی سے وہ زہریلا نہیں تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد بار وہ ہمت ہارنے والی تھیں مگر پھر والدین اور بیٹی کے خیال نے انہیں نیا حوصلہ دیا۔

وہ تیرنا جانتی تھیں تو وہ کنویں میں نصب کے ستون کے ساتھ تیرتی رہیں جبکہ مزید پتھروں کو اکھاڑ کر پیروں کو رکھنے کی جگہ بنائی جس سے وہ اپنے جسم کے اوپری حصے کو پانی سے اوپر رکھنے میں کامیاب ہوئیں۔

امدادی ٹیم نے جھاڑیوں کو صاف کرکے خاتون کو حفاظت سے باہر نکالا اور اسپتال منتقل کیا گیا۔

ان کی 2 پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں جبکہ پھیپھڑوں کو بھی معمولی نقصان پہنچا تھا، البتہ ہاتھ کے زخم زیادہ سنگین تھے۔

اب ان کی حالت مستحکم ہے مگر مکمل صحتیابی میں کافی دن لگ سکتے ہیں