نیویارک: وزیر اعظم شہباز کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب جاری ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ رواں سال مئی میں پاکستان کو اپنی مشرقی سرحد پر جارحیت کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت نے پہلگام حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے ہمارے شہروں پر حملے کیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی سربراہی میں دشمن کا مقابلہ کیا اور بھارت کے 7 طیارے تباہ کیے۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کی قیام امن کی کوششوں کو سہارا اور کہا کہ ہمارے خطے میں قیام امن کی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان نے انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور اب ہم اپنے خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ایک دن کشمیری اپنا حق خود ارادیت حاصل کریں گے اور بھارت کا قبضہ ختم ہوگا۔
تقریباً 80 سالوں سے فلسطینی عوام اسرائیلی طلم و جبر کا سامنا کررہے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینی اسرائیلی آباد کاروں کی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں جبکہ غزہ میں بھی فلسطینی عورتیں اور بچے اسرائیلی فوج کی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اس سے قبل جنرل اسمبلی اجلاس کے لیے اقوام متحدہ پہنچنے پر بھارتی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم سرحد پاردہشت گردی کو شکست دے رہے ہیں۔









