86

نیپال میں سیاسی آگ، سابق وزیراعظم کی اہلیہ زندہ جل گئیں

نیپال کے سابق وزیراعظم کے گھر کو آگ لگائی گئی، جس کی وجہ سے ان اہلیہ زندہ جل گئیں۔

 

نیپال میں نوجوان کرپشن کے خلاف اس وقت سڑکوں پر نکل آئے جب حکومت نے سوشل میڈیا سائٹس سمیت 26 ویب سائٹس پر پابندی عائد کی، تاہم احتجاج کے بعد حکومت نے سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

 

دوسری جانب نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے پُرتشدد ہنگاموں کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

 

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو اور دیگر شہروں میں کرفیو کے باوجود صدر رام چندر پوڈیل اور وزیراعظم کے پی شرما اولی کی رہائش گاہ کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال کے سابق وزرائے اعظم پشپا کمل دہل عرف پراچندا، شیر بہادر دیوبا اور وزیر توانائی دیپک کھڑکا سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کے گھروں کو بھی مظاہرین نے نقصان پہنچایا اور ان پر حملہ کیا۔

 

علاوہ ازیں فوج نے مختلف علاقوں میں پوزیشن سنبھال لی،نیپال کے آرمی چیف نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ 

 

کھٹمنڈو سے برطانوی میڈیا کے مطابق نیپالی آرمی چیف نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ نیپالی فوج قومی اتحاد اور ملکی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔

 

آرمی چیف جنرل اشوک راج نے کہا کہ مظاہروں میں بہت جانی اور مالی نقصان ہوچکا ہے، مظاہرین تحمل کا مظاہرہ کریں، قومی یکجہتی اور امن وامان کا قیام ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 

 

نیپالی آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ مظاہروں کے دوران جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں۔