64

جب دریائی گھوڑے نے ایک فرد کو سالم نگل لیا تو پھر وہ کیسے آزاد ہوا؟

دریائی گھوڑا ایسا غضبناک جانور ہے جس کے قریب جانا ممکن ہی نہیں اور اگر بدقسمتی سے کوئی قریب چلا جائے تو پھر وہ اس فرد کا حشر خراب کرسکتا ہے۔

مگر پال ٹیمپلر نامی شخص کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ناقابل یقین ہے۔

1996 میں پال ٹیمپلر زمبابوے میں سفاری گائیڈ کے طور پر کام کر رہے تھے جب انہیں دریائی گھوڑے کے حملے کا سامنا ہوا۔

15 فٹ کے عظیم الجثہ دریائی گھوڑے نے درحقیقت انہیں سالم ہی نگل لیا تھا۔

انہوں نے اس حیران کن واقعے کی تفصیلات کو کچھ عرصے قبل ایک انٹرویو میں شیئر کیا۔

انہیں زمبابوے میں دریائے Zambezi میں 6 افراد کو سفاری ٹور کرانا تھا۔

وہ اس سے قبل بھی افریقی جنگلات میں شیروں اور ہاتھیوں کا سامنا کر چکے تھے مگر اس دریائی ٹور کے دوران جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ انہیں اب تک نہیں بھول سکا۔

انہوں نے بتایا کہ 9 مارچ 1996 کو دریا کے پانی کے اندر چھپے دریائی گھوڑے نے اچانک حملہ کیا۔

انہیں اس دن کوئی اور کام کرنا تھا مگر ایک ساتھی کے بیمار ہونے کے بعد انہیں سیاحوں کو وکٹوریہ آبشار کے ٹور پر لے جانا پڑا۔

جب ان کی کشتی دریائی گھوڑوں کے ایک مقام سے گزری تو وہ گروپ کو اتھلے پانیوں کی جانب لے گئے تاکہ دریائی گھوڑوں سے کشتیوں کو محفوظ رکھ سکیں۔

اس موقع پر ان کا ایک ساتھی 2 سیاحوں کے ساتھ گروپ سے الگ ہوگیا اور انہیں اس کا انتظار کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں نے کشتی کے چپو کو پانی میں ڈبویا اور پھر دریائی گھوڑا ایک کشتی سے ٹکرایا'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'میں نے گھوم کر دیکھا تو میرے ساتھی کی کشتی ہوا میں اچھل گئی تھی کیونکہ دریائی گھوڑے نے پانی کے نیچے سے ٹکر ماری تھی اور وہ کشتی حقیقی معنوں میں فضا میں پرواز کرگئی'۔

پال ٹیمپلر نے اس موقع پر واپس جاکر اپنے ساتھی کو بچانے کا فیصلہ کیا مگر اس عظیم الجثہ دریائی گھوڑے نے بھی اپنی نظریں ان پر جمالی تھیں اور انہیں پانی کے اندر کھینچ لیا۔

ایک لمحے کے لیے تو وہ اس حملے سے شاک رہ گئے اور ان کے اپنے الفاظ میں 'میں کسی چیز کے اندر پھنس گیا اور ہلنے جلنے اور آزاد ہونے کی کوشش کی مگر میں ایسا نہیں کرسکا، بس اپنا ایک ہاتھ آزاد کرانے میں کامیاب ہوگیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہاتھ پھیرنے سے میں نے دریائی گھوڑے کے نتھنوں کے بال محسوس کیے، تو پھر مجھے علم ہوا کہ میں دریائی گھوڑے کے حلق میں ہوں، سر سے لے کر کمر تک میرا جسم دریائی گھوڑا نگل گیا تھا'۔

اس لمحے انہیں عجیب احساس ہوا 'شاید یہ بہت عجیب لگے مگر میں نے اس موقع پر اطمینان محسوس کیا'۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطمینان کے بعد میں دہشت زدہ ہوگیا کیونکہ مجھے لگا کہ میرا آزاد حصہ کسی مگرمچھ کے منہ میں ہے اور اس خیال نے مجھے بہت، بہت زیادہ خوفزدہ کر دیا'۔

خوش قسمتی سے پال ٹیمپلر کا جسم دریائی گھوڑے کو کچھ زیادہ پسند نہیں آیا اور چبانے کی بجائے اس نے اسے باہر اگل دیا۔

سطح پر واپس آنے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ساتھی گائیڈ کو دیکھا جو واضح طور پر دہشت زدہ نظر آرہا تھا۔

اس دوران دریائی گھوڑے نے ایک بار پھر ان کے نصف جسم کو نگل لیا، اس بار پیروں سے کمر تک کا حصہ جانور کے حلق کے اندر پہنچ گیا۔

دریائی گھوڑے کی طاقت نے انہیں رکنے پر مجبور کر دیا اور پھر وہ ایک بار پھر کچھ لمحات کے لیے آزاد ہوئے مگر یہ آزادی کچھ لمحات کی مہمان ثابت ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ 'میں نے اس عفریت کو میری جانب بڑھتے دیکھا اور اس کا منہ پورا کھلا ہوا تھا اور اس نے مجھے براہ راست نگل لیا، اس کے دانت میرے پیٹ کو چھید گئے، میرے گھٹنے اس کے منہ کی ایک سائیڈ سے باہر نکل گئے جبکہ سر اور کندھے دوسری جانب سے باہر نکل گئے'۔

اس حملے سے وہ بہت بری طرح زخمی ہوئے اور بعد میں 38 بار کاٹنے کے نشانات ان کے جسم پر دریافت ہوئے۔

دریائی گھوڑے کے بہت بڑے جبڑوں میں پھنسنے کے بعد پال ٹیمپلر کو ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا اور ان کے مطابق 'میں دریا کی تہہ میں لیٹا تھا، میں دریائی گھوڑے کے منہ کے اندر لیٹا ہوا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس کے دانت میرے جسم کے آرپار ہوگئے تھے اور پھر میں نے پانی کی سطح پر سورج کی روشنی کو دیکھا، مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں سوچ رہا تھا کہ کس طرح اپنی سانس کو دیر تک روک کر رکھوں؟ اس کے ساتھ جسم سے بہتے خون کو دیکھ کر خیال آیا کہ میں خون بہنے سے ہی مر جاؤں گا'۔

خوش قسمتی سے ان کے ایک ساتھی گائیڈ نے ان کی مدد کی اور حیران کن طور پر انہیں دریائی گھوڑے کے طاقتور دانتوں سے چھڑانے میں بھی کامیاب ہوگیا۔

اسی نے سطح پر لاکر پال ٹیمپلر کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور خوش قسمتی سے انہیں فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی امداد بھی مل گئی۔

ڈاکٹروں کو پال ٹیمپلر کے بائیں ہاتھ کو کاٹنا پڑا مگر صحتیاب ہونے کے بعد وہ بہت جلد دوبارہ اسی دریا میں واپس آگئے۔

وہاں انہوں نے kayak کے ذریعے 1600 میل کے دریا کو عبور کرنے والے پہلے فرد کا اعزاز اپنے نام کیا۔