118

بھارت کا انوکھا گاؤں: پتھر مارنے کی صدیوں پرانی رسم جاری

بھارت میں رسم و رواج  اور  عقائد کے نام پر انسانوں سے ناروا سلوک  تو عام ہے، اس سلوک  کی ایک مثال مدھیہ پردیش کے پانڈھرنا ضلع کے گاؤں میں 3  صدیوں سے  چلی آرہی خوفناک رسم ہے۔

 اس رسم کے تحت 2 گاؤں کے لوگ ایک دوسرے پر پتھر برساتے ہیں حتیٰ کہ اس نرالی رسم کے دوران ہر سال کئی لوگ جان سے چلے جاتے ہیں تو کئی معذور  ہوجاتے ہیں جب کہ سیکڑوں زخمی ہوجاتے ہیں۔

گوٹمار میلہ 

 ریاست مدھیا پردیش کے ضلع پانڈھرنا میں  300 سالوں سے جاری  اس خونی کھیل کو گوٹمار میلے کا نام دیا گیا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق  گوٹمار میلہ ہر سال بھارت میں کسانوں کے اگست یا ستمبر میں آنے والے پولا تہوار کے دوسرے دن لگایا جاتا ہے جس کیلئے نہ صرف اس گاؤں بلکہ آس پاس اضلاع  سے بھی  ہزاروں لوگ  تشریف لاتے ہیں۔

خونی کھیل کا آغاز کب سے  ہوا؟

میلے کے روز صبح سویرے گاؤں کا سریش کاولے نامی شخص دریائے جام کے بیچوں بیچ پلاش کا درخت جھنڈے  کے طور پر  نصب کرکے اس خونی کھیل کا آغاز کرتا ہے ، درخت لگانے کے بعد ناریل ، جھاڑیوں ، بار اور لال کپڑے کے ذریعے اس درخت کی پوجا کی جاتی ہے اور پھر صبح 8 سے 9 بجے اس خونی کھیل کا آغاز ہوتا ہے۔

میلے میں شامل کھلاڑی پتھر اور گوپھن کا استعمال کرتے ہوئے اس رسم کو نبھاتے ہیں، رسی سے تیار گوپھن میں پتھر رکھ کر بڑی طاقت کے ساتھ پھینکا جاتا ہے۔

 

ضلع  پنڈھرنا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سندر سنگھ کنیش نے  بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ  اس میلے میں ’ہر سال500 سے 600  لوگ زخمی ہوجاتے ہیں، اس خوفناک میلے کو روکنے کیلئے متعدد بار انتظامیہ کی جانب سے کوششیں کی گئیں، تاہم ہر بار گاؤں کے لوگوں کی جانب سے اس کوشش کو ناکام  بنادیا ‘۔

اس خونی کھیل کے پیچھے وجہ کیا ہے؟

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ خوفناک کھیل دراصل ایک محبت کرنیوالے جوڑے کی یاد میں ہر سال کھیلا جاتا ہے، یہ سلسلہ تقریباً 300 سالوں سے جاری ہے تاہم اس  دعوے سے متعلق  کوئی ثبوت موجود نہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق صدیوں پہلے  پنڈھرنا گاؤں کا لڑکا ساور گاؤں کی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا لیکن لڑکی کے اہل خانہ اس لڑکے سے شادی کیلئے رضامند نہ ہوسکے جس کے بعد لڑکےنے ساور گاؤں کی لڑکی کو بھگا کر اپنے گاؤں  لانے کی کوشش کی لیکن اس بات کا علم  لڑکی کے گھر والوں کو ہوگیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جس روز یہ جوڑا بھاگ کر   جام ندی پار کررہا تھا تب ہی لڑکی کے گھر والے وہاں پہنچ گئے ، انہوں نے لڑکے  پر پتھر برسانا شروع کردیے۔

دوسری جانب لڑکے کے گھر والے بھی  اس جگہ پہنچ گئے  جس کے بعد انہوں نے بھی  اپنے بیٹے کو بچانے کیلئے ساور گاؤں کے لوگوں پر پتھر برسانا شروع کردیے تاہم اس دوران لڑکا اور لڑکی ہلاک ہوگئے لیکن  یہ خونی کھیل تب سے اب تک کھیلاجارہا ہے۔