273

برج خلیفہ کا دور ختم ہونے کے قریب ؟ دنیا کی بلند ترین عمارت کی تکمیل کا سفر تیز

دبئی کے برج الخلیفہ کو پیچھے چھوڑ کر جلد دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرنے والے جدہ ٹاور کی تعمیر زیادہ تیز رفتاری سے مکمل کی جا رہی ہے۔

درحقیقت اگست 2028 تک جدہ ٹاور کی تعمیر کو مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بات اس کی تعمیر کرنے والی کمپنی ایڈرین اسمتھ پلس گورڈن گِل آرکیٹیکٹ (اے ایس پلس جی جی) کی جانب سے امریکی میڈیا کو بتائی گئی۔

اسے امریکی آرکیٹیکٹ ایڈرین اسمتھ نے ڈیزائن کیا جو اس سے قبل برج الخلیفہ کو بھی ڈیزائن کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ دبئی میں موجود برج الخلیفہ 2010 سے دنیا کی بلند ترین عمارت ہے مگر آنے والے برسوں میں سعودی عرب میں زیرتعمیر جدہ ٹاور یہ اعزاز اپنے نام کرلے گا۔

برج الخلیفہ سے جلد بلند ترین عمارت کا اعزاز چھیننے والا اسٹرکچر کی تعمیر کب مکمل ہوگی؟

 

یہ دنیا کی پہلی عمارت ہوگی جس کی بلندی ایک کلو میٹر سے زائد ہوگی۔

جدہ ٹاور کی تعمیر جب مکمل ہو جائے گی تو اس کی بلندی 3280 فٹ سے زائد ہوگی اور اس طرح یہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز اپنے نام کرے گی۔

خیال رہے کہ 163 منزلہ برج الخلیفہ کی بلندی 2722 فٹ ہے۔

جدہ کے شمالی حصے میں تعمیر ہونے والا یہ ٹاور وہاں کے 20 ارب ڈالرز مالیت کے جدہ اکنامک سٹی ڈویلپمنٹ منصوبے کا قلب ہوگا۔

برج الخلیفہ سے جلد بلند ترین عمارت کا اعزاز چھیننے والا اسٹرکچر کی تعمیر کب مکمل ہوگی؟

 

اے ایس پلس جی جی کے ایک عہدیدار رابرٹ فراسٹ نے جدہ ٹاور کی جولائی 2025 کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ تعمیراتی کام کی رفتار سے عندیہ ملتا ہے کہ اسے اگست 2028 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اگست میں اس کی 69 منزلوں کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی۔

جدہ ٹاور میں ایک لگژری ہوٹل، دفاتر، اپارٹمنٹس اور دیگر کو تعمیر کیا جائےگا جبکہ 157 ویں منزل پر ایک اسکائی ٹیریس بھی موجود ہوگا جسے دنیا کی بلند ترین آبزرویٹری قرار دیا جائے گا۔

رابرٹ فراسٹ نے بتایا کہ تعمیراتی سرگرمیوں کی رفتار بڑھ چکی ہے اور پوری ٹیم اس اسٹرکچر کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اے ایس پلس جی جی کے شراکت دار گورڈن گِل کے مطابق اس ٹاور کا ڈیزائن سعودی عرب کی معاشی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس عمارت کا دیواری نظام توانائی کے استعمال کو کم از کم رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اے ایس پلس جی جی کے مطابق اس ٹاور کی تینوں اطراف کا ڈیزائن کچھ اس طرح کا ہے جو عمارت کے اندرونی حصوں کو سورج کی روشنی سے تحفظ فراہم کرے گا۔

اس کے اندر 59 لفٹیں ہوں گی جن میں 54 سنگل ڈیک جبکہ 5 ڈبل ڈیک لفٹیں ہوں گی اور ہر لفٹ 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرے گی۔

خیال رہے کہ جدہ ٹاور کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں سامنے آیا اور تعمیراتی کام 2013 میں شروع ہوا۔

2018 میں تعمیراتی کام روک دیا گیا تھا اور کووڈ 19 کی وبا کے باعث دوبارہ کام شروع نہیں ہو سکا

2018 میں جب اس کی تعمیر روکی گئی تھی تو ایک تہائی عمارت مکمل کرلی گئی تھی۔

مئی 2024 میں تعمیراتی کمپنی کی جانب سے جدہ ٹاور پر کام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور جنوری 2025 میں کام کا آغاز ہوا۔

برج الخلیفہ سے جلد بلند ترین عمارت کا اعزاز چھیننے والا اسٹرکچر کی تعمیر کب مکمل ہوگی؟

 

جب عمارت کی تعمیر مکمل ہوگی تو یہ 170 منزلہ ہوگی۔

گورڈن گِل کے مطابق تعمیراتی کام کے دوبارہ آغاز کے بعد ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور کام کافی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

ویسے تو تعمیراتی کمپنی کی جانب سے جدہ ٹاور کی لاگت کا تخمینے کو بتانے سے گریز کیا گیا مگر ایک اندازے کے مطابق اس کی تعمیر پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز سے زائد خرچ ہوں گے۔