92

چھ ماہ میں 37۔3 لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی (یکم جنوری تا 30 جون) کے دوران تقریباً 3 لاکھ 37 ہزار پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ (MOP&HRD) کے ماتحت ادارے BEOE میں 2 لاکھ 75 ہزار 669 بیرونِ ملک ملازمتوں کی دستیابی رجسٹر کی گئی، جن میں سے 1 لاکھ 43 ہزار 854 نوکریاں مکمل ہوچکی ہیں جبکہ 1 لاکھ 31 ہزار 817 آسامیاں تاحال دستیاب ہیں۔

حکام کے مطابق، 1971 میں ادارے کے قیام سے اب تک 1 کروڑ سے زائد پاکستانی باقاعدہ رجسٹریشن کے ساتھ بیرون ملک روزگار حاصل کر چکے ہیں۔
سال 2015 میں سب سے زیادہ 9 لاکھ 46 ہزار 571 پاکستانیوں نے بیرونِ ملک ملازمت حاصل کی۔

بیورو کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت نہ صرف پاکستانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہے بلکہ زرمبادلہ، قرضوں کی ادائیگی، درآمدی بلز، غربت کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ادارہ بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے معلومات کی فراہمی، امیگریشن کے عمل کی نگرانی، اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز (OEPs) کی مانیٹرنگ جیسے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ ساتھ ہی محفوظ اور منظم امیگریشن کو یقینی بنانے کے لیے سات مختلف پروٹیکٹوریٹس آف ایمیگرنٹس دفاتر کے ذریعے خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

بیورو کی جانب سے امیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت امیگریشن کو ریگولیٹ کرنے، اوورسیز ورکرز انشورنس، اور مختلف ممالک سے افرادی قوت کے معاہدوں جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

بیرون ملک ملازمتوں کے لیے دستیاب مواقع کی معلومات حاصل کرنے کے لیے بیورو کی ویب سائٹ وزٹ کی جا سکتی ہے۔