بچوں کے موبائل، ٹی وی اور دیگر ڈیجیٹل اسکرینز کے سامنے گزارے گئے وقت کے حوالے سے ایک نئی سائنسی تحقیق میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین دیکھنے کی عادت بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہی ہے۔
ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور سوشل رویوں میں بگاڑ
تحقیق کے مطابق وہ بچے جو روزانہ کئی گھنٹے اسکرینز کے سامنے گزارتے ہیں، اُن میں نیند کی کمی، توجہ کی کمی، چڑچڑا پن، اور سوشل رویوں میں بگاڑ زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی نیند کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے، جبکہ مسلسل ویڈیوز اور گیمز دیکھنے سے دماغی تھکن بڑھتی ہے۔
والدین کے لیے ماہرین کی وارننگ
ماہرینِ نفسیات اور اطفال نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور اس کی جگہ جسمانی سرگرمیوں، مطالعے اور کھیلوں کو فروغ دیں۔
"ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اسکرین کا استعمال مکمل بند کر دیں، مگر اس کا توازن بہت ضروری ہے۔ بچوں کو مسلسل ڈیجیٹل مواد میں مشغول رکھنا ان کے دماغ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے،" ماہرِ نفسیات ڈاکٹر انعم احمد نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا۔
تعلیم اور اسکرین ٹائم: ایک متوازن راستہ درکار
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آن لائن کلاسز اور تعلیمی سرگرمیوں کے دوران بھی اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال بچوں میں دباؤ اور الجھن کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اسکرین ٹائم کو بھی متوازن انداز میں استعمال کریں۔
حکومت اور اسکولوں سے رہنما اصول وضع کرنے کا مطالبہ
ماہرین نے حکومت اور تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے اسکرین ٹائم سے متعلق باقاعدہ گائیڈ لائنز تیار کی جائیں تاکہ والدین کو بچوں کی ڈیجیٹل عادتوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے۔









