111

سراج کو وہ عزت نہیں ملی جس کے وہ حق دار ہیں، سچن ٹنڈولکر

ممبئی: بھارت کے عظیم سابق بلے باز سچن ٹنڈولکر نے فاسٹ بولر محمد سراج کی شاندار کارکردگی پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ سراج کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ مکمل طور پر مستحق ہیں۔

پانچ ٹیسٹ میچوں کی حالیہ بھارت-انگلینڈ سیریز اگرچہ برابر رہی، مگر محمد سراج اپنی شاندار کارکردگی کے باعث سب کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ انہوں نے نو اننگز میں 23 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جو دونوں ٹیموں میں سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔

تمام میچز کھیلنے والے واحد فاسٹ بولر

30 سالہ سراج نہ صرف مکمل سیریز کھیلنے والے واحد فاسٹ بولر رہے بلکہ انہوں نے بھارت کے مرکزی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کو بھی وکٹوں کے معاملے میں پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی اوسط 32.43 رہی، جبکہ ان کی تیزی، فٹنس اور تسلسل نے سب کو متاثر کیا۔

"سراج کا انداز ناقابلِ یقین ہے" — سچن ٹنڈولکر

ایک انٹرویو میں سچن ٹنڈولکر نے سراج کے انداز اور رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا:

"ناقابل یقین بولر ہے۔ اُس کی اپروچ لاجواب ہے۔ مجھے اُس کا جارحانہ انداز بہت پسند ہے۔ جو فاسٹ بولر ہر وقت بلے باز کے چہرے پر دباؤ بنائے رکھے، وہ کسی بھی ٹیم کے لیے خزانہ ہوتا ہے۔"

فیصلہ کن اسپیل، تاریخی کامیابی

سراج کی سب سے یادگار کارکردگی سیریز کے پانچویں ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں دیکھنے میں آئی، جہاں انہوں نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں اور بھارت کو محض 6 رنز سے تاریخی فتح دلائی — جو بھارتی ٹیسٹ تاریخ کی سب سے کم مارجن سے جیت ہے۔

اس شاندار کارکردگی پر انہیں "پلیئر آف دی میچ" قرار دیا گیا، جبکہ کپتان شبمن گل کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔

"1000 گیندوں کے بعد بھی 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حیرت انگیز ہے" — سچن

ٹنڈولکر نے مزید کہا:"پانچ میچوں کی تھکا دینے والی سیریز کے آخری دن 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنا، اور وہ بھی 1000 سے زائد گیندیں کرانے کے بعد، سراج کے دل و دماغ کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔"

سراج: خاموش مجاہد، مستقل کارکردگی کا استعارہ

جسپریت بمراہ اور روی چندرن ایشون جیسے بڑے ناموں کے درمیان محمد سراج اکثر پس منظر میں رہے، مگر اُن کی محنت، مستقل مزاجی اور نازک لمحات میں وکٹ لینے کی صلاحیت نے انہیں بھارتی ٹیم کا اہم ہتھیار بنا دیا ہے۔

2020 میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے سراج اب نہ صرف سینئر بولرز کے متبادل کے طور پر بلکہ مرکزی پیسر کے طور پر ٹیم کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔

سیریز میں فاسٹ بولرز کی کارکردگی

بولروکٹیںاوسطمحمد سراج2332.43جسپریت بمراہ19--مارک ووڈ14--جیمز اینڈرسن11--

آسٹریلیا ٹور میں سراج کی کارکردگی کلیدی ہوگی

سچن ٹنڈولکر جیسے لیجنڈ کا اعتراف محمد سراج کے لیے نہ صرف حوصلہ افزائی ہے بلکہ ممکنہ طور پر انہیں بھارتی کرکٹ میں مزید مرکزی حیثیت دلانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ بھارت اگلے سال جب آسٹریلیا کے سخت دورے پر جائے گا تو سراج کی فارم اور فٹنس ٹیم کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھیں گی۔

اگر سراج نے اسی جوش اور لگن سے کارکردگی جاری رکھی، تو وہ جلد ہی دنیا کے صف اول کے فاسٹ بولرز میں شامل ہو جائیں گے۔