سبی، بلوچستان: جافر ایکسپریس کی آمد سے کچھ دیر قبل سبی میں ریلوے ٹریک کے قریب دھماکہ ہوا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے علاقے کو کلیئر کر کے ریلوے آپریشن بحال کر دیا ہے۔
دھماکہ ٹریک سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر
ریلوے حکام کے مطابق دھماکہ سبی ریلوے اسٹیشن کے قریب اس وقت ہوا جب جافر ایکسپریس پشاور سے کوئٹہ کی جانب رواں دواں تھی۔ بم دھماکہ مرکزی ریلوے لائن سے محض دو سے ڈھائی فٹ کے فاصلے پر ہوا، جو ممکنہ بڑے حادثے کا باعث بن سکتا تھا۔
سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی، علاقہ محفوظ
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور ریلوے حکام موقع پر پہنچ گئے، اور فوری طور پر علاقے کو محفوظ بناتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب جاننے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ٹرین آپریشن بحال، جافر ایکسپریس روانہ
دھماکے کے بعد کچھ دیر کے لیے سبی اسٹیشن پر ٹرین آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا تھا، تاہم کلیئرنس آپریشن مکمل ہوتے ہی جافر ایکسپریس کو پشاور سے کوئٹہ کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ اسی طرح کوئٹہ سے پشاور جانے والی جافر ایکسپریس کی روانگی بھی جلد متوقع ہے۔
تفتیش جاری، تخریب کاری یا حادثہ؟
حکام نے بتایا کہ یہ جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے کہ آیا یہ دھماکہ کسی تخریب کاری کا نتیجہ ہے یا محض اتفاقیہ واقعہ۔ چونکہ دھماکہ فعال ریلوے ٹریک کے اتنے قریب ہوا، اس لیے ریلوے سیکیورٹی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مسافروں کے لیے ٹرین سروسز جلد معمول پر آنے کا اعلان
سبی اسٹیشن پر جافر ایکسپریس کی اپ اور ڈاؤن دونوں سروسز کچھ دیر معطل رہیں، تاہم ریلوے حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ٹرین سروسز جلد اپنے معمول کے شیڈول پر واپس آجائیں گی۔









