سزائے موت کو سخت ترین سزا قرار دیا جاتا ہے مگر ایک یورپی قصبے میں تو ایک قانون کے ذریعے اسے بالکل نئے معنی پہنا دیے گئے ہیں۔
جی ہاں اسپین کے صوبے غرناطہ کے ایک چھوٹے سے قصبے لانجارون میں لوگوں کے لیے مرنے کو ہی غیر قانونی قرار دیا گیا۔
یہ واقعی یہاں کا قانون ہے جس کا نفاذ قصبے کے سابق میئر جوز روبیو نے 25 سال سے زائد عرصے قبل کیا تھا۔
1999 میں میئر کی جانب سے قانون کے نفاذ کے حکم نامے میں شہریوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھیں تاکہ وہ قبرستان کے لیے زمین خریدنے تک زندہ رہ سکیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ تو رہائشیوں کے لیے لانجارون میں مرنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
اس زمانے میں میئر پر دباؤ تھا کہ وہ قصبے کے واحد قبرستان بھرنے کے مسئلے کو فوری طور پر حل کریں۔
انہوں نے اس کا جو حل نکالا وہ بالکل ہی نرالا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میں بس ایک میئر ہوں اور مجھ سے اوپر خدا ہے جو سب کچھ چلاتا ہے'۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ایک نے اس حکم نامے کو مزاح کے طور پر لیا اور اس پر عملدرآمد کی مضبوط خواہش ظاہر کی۔
یہ واضح نہیں کہ اس قصبے میں قبرستان کو توسیع دی گئی یا نہیں مگر 26 سال بعد بھی وہاں ایک ہی قبرستان ہے۔
مرنے پر پابندی سے ہٹ کر یہ چھوٹا سا قصبہ عام قصبوں جیسا ہی ہے اور کافی مقبول سیاحتی مقام بھی ہے۔
سیاحتی مقبولیت کے باعث ہی مرنے پر پابندی کا قانون حالیہ مہینوں میں انٹرنیٹ پر ابھر کر سامنے آیا۔
ویسے یہ واحد قصبہ نہیں بلکہ ناروے کے قصبے لانگایربین میں 1950 سے لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد ہے۔
اس قصبے میں 2 ہزار کے قریب افراد مقیم ہیں اور یہاں قبرستان بھی ہے مگر اسے دہائیوں سے استعمال نہیں کیا گیا۔
تو پھر اس قانون کے نفاذ کی وجہ کیا ہے؟
1950 میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ یہاں کے قبرستان میں دفن شدہ لاشیں ڈی کمپوز نہیں ہورہیں۔
یہاں کا موسم بہت سرد ہوتا ہے اور عموماً برف جمی رہتی ہے جس کے باعث وہاں دفن لاشوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جس سے جان لیوا جراثیم پھیلنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
جراثیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وہاں 1950 میں لوگوں کے قصبے میں مرنے پر پابندی عائد کی گئی۔
مقامی افراد کے مطابق ویسے تو کبھی کبھار یہاں لوگ اچانک انتقال کر جاتے ہیں مگر عموماً جب کوئی فرد بہت زیادہ بوڑھا ہو جائے یا اپنا خیال رکھنے کا قابل نہ ہو تو پھر اسے جزیرے میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومت کی جانب سے یہاں کے تمام رہائشیوں کی عمروں کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔
اکثر جب لوگ 70 سال کے ہو جاتے ہیں تو وہ جزیرے کو چھوڑ کر جانے لگتے ہیں۔









