یومیہ میک اپ اور کاسمیٹک مصنوعات استعمال کرنے والی خواتین کو زندگی کے بعد کے مراحل میں دمہ ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتا ہے، نئی تحقیق میں انکشاف۔
یہ تحقیق، جو 12 سالہ مدت کے دوران تقریباً 40,000 افراد سے جمع کیے گئے ڈیٹا پر مبنی ہے، میں 41 اقسام کی بیوٹی مصنوعات جیسے لپ اسٹک، بلش، مسکارا اور مصنوعی ناخن کا جائزہ لیا گیا۔
ماہرین نے پایا کہ جو خواتین باقاعدگی سے لپ اسٹک، کیوٹیکل کریم، بلش اور مصنوعی ناخن استعمال کرتی ہیں، ان میں دمہ کے امکانات 47 فیصد تک زیادہ پائے گئے۔ یہاں تک کہ صرف بلش اور لپ اسٹک ہفتے میں پانچ یا زیادہ بار استعمال کرنے سے بھی دمہ کے خطرات میں 18 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اگرچہ تحقیق نے ان مصنوعات اور دمہ کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا، سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ان بیوٹی آئٹمز میں موجود کچھ کیمیکل اجزاء وقت کے ساتھ سانس کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا: "یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کاسمیٹکس میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے بعض کیمیکلز صحت پر طویل المدتی اثرات ڈال سکتے ہیں۔" تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کون سے اجزاء سب سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق ان مطالعوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں ایک اضافہ ہے جو ذاتی نگہداشت اور بیوٹی مصنوعات میں موجود مصنوعی اجزاء سے صحت کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کر رہی ہیں۔
اگرچہ بیوٹی انڈسٹری اپنے فارمولوں کو محفوظ قرار دیتی ہے، ماہرین صحت نے زیادہ سخت قوانین اور اجزاء کے بارے میں شفاف معلومات کی اپیل کی ہے۔









