175

سام آلٹمین نے کھول دی حقیقت کی پرتیں — AI صارفین کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

پر جذباتی سپورٹ کے لیے انحصار کرنے لگے ہیں، لیکن OpenAI کے سی ای او سام آلٹمین نے حال ہی میں ایک اہم اور چونکا دینے والی بات کی ہے:

“ChatGPT آپ کا جذباتی مشیر یا تھراپسٹ نہیں ہے — اور قانون میں ایسی کوئی حیثیت اس کی کبھی نہیں تھی۔”

یہ بیان انہوں نے تھیو وان کے پوڈکاسٹ "This Past Weekend" میں دیا، جہاں انہوں نے ڈیجیٹل پرائیویسی کے ایک خطرناک خلا پر بات کی۔ آلٹمین نے کہا کہ نوجوان خصوصاً اپنی سب سے ذاتی باتیں ChatGPT سے شیئر کرتے ہیں، جیسے کسی لائف کوچ یا تھراپسٹ سے، مگر

“ان معلومات پر کوئی قانونی تحفظ نہیں — جیسے کہ کسی ڈاکٹر، وکیل یا رجسٹرڈ تھراپسٹ کے ساتھ بات چیت پر ہوتا ہے۔”

یہ فرق بہت گہرا ہے۔ انسانی ماہرین کے ساتھ بات چیت قانون کے تحفظ میں ہوتی ہے، جبکہ AI چیٹس عدالت میں بطور ثبوت طلب کی جا سکتی ہیں۔ آلٹمین نے واضح الفاظ میں کہا:

“یہ معاملہ واقعی بہت الجھا ہوا ہے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب OpenAI اور نیو یارک ٹائمز کے درمیان ایک قانونی جنگ جاری ہے، جس میں اخبار نے عدالت سے ChatGPT صارفین کی گفتگو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے — بطور حقِ اشاعت مقدمے کے شواہد۔ OpenAI اس عدالتی حکم کو ایک خطرناک نظیر قرار دے کر چیلنج کر رہا ہے۔

اس تنازعے نے ایک مرتبہ پھر AI اور ڈیجیٹل اخلاقیات پر عوامی بحث کو جنم دے دیا ہے، خاص طور پر رو وی ویڈ فیصلے کے بعد جب صارفین نے اپنی حساس صحت کی معلومات کے لیے اینکرپٹڈ ایپس کا رخ کیا۔

سام آلٹمین نے صارفین کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا:

"جب آپ ChatGPT کو بار بار استعمال کرنا چاہتے ہیں تو پہلے پرائیویسی اور قانونی پہلو مکمل طور پر سمجھ لیں۔"

اب جب کہ AI ہماری زندگیوں میں مزید ذاتی پہلو شامل کر رہا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا مشینوں سے ہونے والی بات چیت بھی وہی قانونی تحفظ حاصل کرنی چاہیے جو انسانوں سے بات چیت کو حاصل ہوتا ہے؟

فی الحال جواب نفی میں ہے — اور شاید یہ سب سے زیادہ "انسانی مسئلہ" بن چکا ہے۔